آزاد نظم ضیاء افروز

گمان
دھیان کی سیڑھیوں پہ چل کر
میں نیم شب کو
حسین خوابوں کی وادیوں میں نکل گیا تھا
جہاں کے منظر ہی منفرد تھے
جمال_فطرت کی چاندنی کا
طلسم پھیلا ہوا تھا ہر سو
سرشت_ہستی لطیف تر تھی
ہر ایک جانب وفا کے ساغر چھلک رہے تھے
جہاں کے باسی!
وفا کے نغمے الاپتے تھے
قدم قدم پر طرب کدے تھے
‘دمکتے سینے
چمکتی آنکھیں
گھنیری زلفوں کے سائباں تھے
‘ گمان کی وادی کی پاک دیوی
کہ جس نے اوڑھی تھی دھند چادر حسین تر تھی
عجیب دلکش سماں بندھا تھا
میں کھو گیا تھا
جمال_فطرت کی چاندنی میں
سو حیرتوں سے میں دست بستہ
ہر ایک منظر کو تک رہا تھا
پلک جھپکنا محال تر تھا
گمان کی یخ بستہ وادیوں میں
میں منجمد تھا
سکوت_لب کی وہ سرسراہٹ ہر صدا سے الجھ رہی تھی
اسی تفکر کے پیش و پس میں
حسین وادی سے نیم شب وہ گزر رہی تھی
فلک کے دامن میں چاند تارے سسک رہے تھے
بلک رہے رہے تھے
حسین وادی اجاڑ بن میں بدل رہی تھی
سمے کی ناگن !
حسین خوابوں ڈس رہی تھی
ہر ایک منظر لہو لہو تھا
ہر ایک راستہ دھواں دھواں تھا
سحر کا سورج نکل چکا تھا
سحر کے سورج کی تیز کرنیں
نوکیلی کرنیں
مری رگ_جان میں چھب رہی تھی
میں خواب_بستر سے اٹھ چکا تھا
میرے خیالوں کو بد حواسی نے آ لیا تھا
میں منتشر تھا
بکھر چکا تھا
سو میں پلٹ کر حسین خوابوں کی وادیوں سے
دھیان کی سیڑھیوں تک آیا
دھیان کی سیڑھیوں سے اترا
تو میں نے جانا
کہ کل کی پرکیف! نیم شب کو
حسین خوابوں کی وادیوں سے نکلتے لمحے !
میں مر چکا تھا

Zeal Mobile Reporter

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This