صالح ولی آزاد

غزل

موقوف ایک در پہ نہیں بے کلی کی شام
ہر درد کو کھٹکھٹائے گی یہ زندگی کی شام

دو دن کی مستعار گھڑی یوں بسر ہوئی
اک بے کلی کی صبح تھی اک بے بسی کی شام

ہو تیرا گزر جس گلی  سے دفعتاً کبھی
مثلِ سحر ہے مرے لیے اُس گلی کی شام

مے خانہ و زندان  و شب  وصل ، شب تار
ہر رنگ میں ڈھلتی  رہے گی ہر کسی کی شام

ساغر کی چھنک ،دردِ جگر ،مفلسی کی آہ
کتنی عجیب لگ رہی ہے آدمی کی شام

توقیر تری بزم میں یوں ہوگئی مری
جیسے دیار غیر میں ہو اجنبی کی شام

آزادؔ  اُسی شام پہ صد شام ہو فدا
قسمت سے میسر ہو اگر دل لگی کی شام

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
18070cookie-checkصالح ولی آزاد

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This