Supreme Court Dam Initiative

چترال، کھو اور چترالی آخری حصہ

کھوقوم کا لباس بھی منفرد مقام کا حامل ہے یہاں کی خواتین روایتی لباس کے علاوہ سروں میں مخصوص ’کھو ٹوپی‘ پہنتی ہیں اسی طرح مرد چغہ اور سروں پر مردانہ ٹوپی یعنی’ کاپھوڑ‘ یا ’پاکھوڑ‘استعمال کرتے ہیں ۔ لیکن دورِ حاضر میں جب بھی چترال میں کوئی بیرونی خاتون مہمان آتے ہیں تو انہیں مردانہ ٹوپی پہنا یاجاتا ہے حالانکہ خواتین کی مخصوص سلائی کی ہوئی ٹوپی یہاں کی روایت کا حصہ ہے ۔اسی طرح چترال کے عوام ثقافت کی نمائندگی کے نام پر یہاں کی ثقافت کو سبوتاژ کرنے میں مصروف ہے البتہ ابھی تک اس امر کو سمجھنے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی ۔ یہاں پر دوباتوں کا اضافہ ناگزیر ہے یہ کہ خاکسار کو حال ہی میں ہنزہ کی سیاحت کا موقع ملا ہنزہ زمانہ قدیم سے بیرونی حملہ آوروں کی آماجگاہ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ہنزہ کے لوگ اب بھی جھگڑالو خصلت کے حامل ہیں ۔ لیکن آج اگر دیکھا جائے تو انہوں نے نہ صرف جدید تعلیم سے مستفید ہوکر دنیا کی قوموں میں اونچا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ انہوں نے اپنی ثقافت کو محفوظ رکھ کر جدید دنیا کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ہنزہ کی ثقافت وادب کا چرچا ہے ، اگر چہ ہنزہ کی موسیقی میں وہ رومانیت ،مٹھاس اور نرمی موجود نہیں جو کھو ارموسیقی میں موجود ہے ۔ جس کا اعتراف ہنزہ کے لوگ خود بھی کرتے ہیں لیکن وہاں جس چیز سے ہم متاثر ہوئے وہ ان کی موسیقی کے ساتھ جذباتی وابستگی کے علاوہ وہ ثقافتی حدود وقیود ہے جو کسی بھی زندہ کلچر کا خاصہ ہوتاہے جب وہاں موسیقی بجتی ہے تو پہلے علاقے کے سفید ریشوں کو رقص کا موقع دیاجاتاہے پھر ہر علاقے کے لوگوں کے لیے مخصوص دھن بجایا جاتاہے اور اس میں بھی ماہر رقاص کو اپنے فن کے مظاہرے کا موقع ملتاہے ۔اس کے علاوہ وہاں کی خواتین کی سروں میں زنانہ ٹوپی اور مرد مردانہ ٹوپی ’’کاپھوڑ‘‘ پہنتے ہیں ۔کسی بیرونی خاتون مہمان کو ہنزہ کے دورے میں مردانہ ٹوپی نہیں پہنائی جاتی اور نہ ہی کسی مرد کو زنانہ ٹوپی پہنا کر اپنی ثقافت کو تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ جبکہ اپنے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔ 1990ء کی دہائی میں جب ’شہزادی ڈیانا‘ چترال کے دورے پر آئی تو انہیں مردانہ ثقافتی لباس اور ٹوپی’کاپھوڑڑ‘ پہنایا گیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی بھی ایسی تصویر دیکھنے کو ملی جس میں انہیں مردانہ چترالی ٹوپی پہنایاگیا ہے حال ہی میں ماروی میمن اور پھر سنیٹر روبینہ خالد کے دورہ چترال کے مواقع پر انہیں زنانہ ٹوپی پہنانے کی بجائے مردانہ کاپھوڑڑ پہنا کر ان کی آؤبھگت کی گئی ۔جو کہ چترالی بالخصوص کھو ثقافتی اقدار پر بدترین حملہ ہے ۔ ہنزہ کی ترقی میں ایک اور اہم عامل سیاحت کا بھی رہاہے سیاحت کی ترقی میں ہنزہ میں موجود التت اور بلتت کے تاریخی قلعوں کونمایاں مقام حاصل ہے ۔ بیرونی خطوں کے سیاح ان قلعوں کو دیکھنے اور ان پر تحقیق کرنے کی عرض سے ہنزہ کی جانب راغب ہوتے ہیں، یاد رہے سینکڑوں برس پرانے یہ دونوں قلعے عوامی ملکیت ہے۔ چترال میں ہنزہ کے قلعوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور فن تعمیر کے حوالے سے بھی اعلیٰ معیار کے قلعے موجود ہے لیکن بدقسمتی سے وہ قلعے سابقہ حکمران خاندان کے قبضے میں ہیں یوں نہ صرف بیرونی بلکہ علاقائی سیاحوں کو بھی ان قلعوں کے سیر کی اجازت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے نئی نسل کو تاریخ کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ہی یہ قلعے سیاحت کے فروع میں کوئی کردار اداکرتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ فرد واحد یا ایک خاندا ن کے لیے ان قلعوں کی حفاظت ممکن نہیں جس کی بنا پر قلعوں کی صورت میں موجود ثقافتی ورثے خستہ حالی کا شکار ہیں یا پھر ان قلعوں کے گرنے کے بعد اس کی جگہ کنکریٹ سے بنی ہوئی بلندوبالا عمارتیں کھڑی کی گئی ہے جو کٹور خاندان کی جانب سے چترال کی ثقافت کو نیست ونابود کرنے کی ارادی یا غیر ارادی کوشش ہے ۔اب بھی وقت کا تقاضہ ہے کہ حکومت خیبرپختونخواہ ،وفاقی حکومت بالخصوص محکمہ آثار قدیمہ ان تاریخی قلعوں کو اپنی تحویل میں لے کر ان کی پرانی حیثیت میں بحالی اور ان کا دروازہ عوام کے لیےکھول دیں۔ اس کے بغیر چترال کی قدیم ثقافت کا بچاؤ ناممکن ہے ۔

Zeal Mobile Reporter

تبصرہ

  1. ڈاکٹر خلیل (جغورو ) کینیڈا
    کریم الله صاحب ..جہاں تک چترال انے والے والے خواتین مہمانوں کو مردانہ ٹوپی پہنانے کی بات ہے ،، میرا اپ کے ساتھ مکمل اتفاق ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاھے ،، یہ بے شک چترالی ثقافت کے ساتھ مذاق ہے ،، لیکن یہ کوئی دانستہ طور پر نہیں ہوتا ،، اس کے دو ووجوہات ہو سکتے ہیں .. پہلا یہ کہ آج تک کسی کے دماغ میں یہ بات آیی نہیں ہوگی .. دوسری بات ، چترال کی خواتین والی زاردوزی ٹوپی پہلے تو ملتی نہیں، اگر ملے بھی تو بہت مہنگی ہے .. رہی بات ہنزہ کی .. پینسٹھ فیصد چترال کا ہنزہ کی ثقافت کے ساتھ کوئی تغلق ہی نہیں بنتا ،، ہنزہ میں کوئی ٥٠ بار گیا ہوں ،، ہنزہ سو فیصد اسماعیلی طبقے کے لوگ آباد ہیں جبکہ چترال کی آبادی میں اسماعیلیوں کی تعداد ٣٤ فیصد ہے ،، جہاں تک میں نے ہنزہ کی ثقافت کا جایزہ لیا ہے ،، ووہان کے کچھ کلچرل کام چترال کے اسماعیلی علاقوں میں شاید ہو بھی سکتے ہیں .. الکن جن جن باتوں کا اپ نے ذکر کیا ہے، ان میں اکثر اسماعیلی علاقوں میں بھی ممکن نہیں ،، یہاں ہم چترالی پہلے سنی اسماعیلی بغد میں ہیں ..اپ لوگوں کو ایسے کام کرنے پر بلواسطہ کیوں اگسا رہے ہیں جن کی وجہ سے چترال کی پرامن فضا خراب ہونے کا خدشہ ہو .. چترال کی ثقافت میں بوڑھوں کو ناچنا بہت گھٹیا حرکت ہے .. چترالی عورت کا باہر نکل کر کسی انجان مرد کو خوش آمدید کہنا بے غرتی اور بے شرمی ہے ، چاہی وہ سنی ہو یا اسماعیلی .. مجھے اچھی طرح مغلوم ہے ، ہنزہ میں سیر کرنے انے والے اکثریت یہاں کی بے پرد عورتوں اور لڑکیوں کو دیکھنے اتے ہیں، بلکل اسی طرح جیسے ہمارے کلاش میں .. میں یہ نہیں کہ رہا ہوں سرے اسی نیت سے اتے ہیں ، میں بات اکثریت کی کر رہا ھوں .. ہنزہ میں بھی ووہی ہوتا ہے ، جو ہمارے کلاش میں ہوتا ہے .. پاکستان میں خوبصورت لڑکی شراب کا گلاس پیش کرکے اپ کے سامنے بیٹھ کر اپ کی ہر بات کو سنے ، گپ شب لگانے ،، اس سے زیادہ کسی کوی کیا چاہیے گا .. لیکن چترال میں یہ سب صرف کلاش ویلی میں ہی ممکن ہے .. اپ تصویر کا ایک رخ دیکھا کر چترالیوں کو دانستہ یا غیر دانستہ طریقے سے اپس میں دست گریبان کر رہے ہیں .. براہ کرم جو لکھ رہے ہیں اس کے نتایج کو ضرور ذہن میں رکھ لیجئے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This