چترال میں بہار

یوں تو سال میں چار موسم ہوتے ہیں اور انہی چارموسموں میں زیادہ تر موسم بہار کی جس شدت سے انتظار سب کو رہتی ہے شاید ہی کسی اور موسم کے لیے کوئی اتنا بے چین ہوتا ہوگا۔ اور جب یہ ہم جیسے سادہ لوح چترالیوں کے لیے جینے اور خوش رہنے کا ایک انمول ذریعہ ہو تو اس کے آنے کی خوشی دوبالا ہوجاتی ہے۔  کیونکہ سال کے درمیانی مہینوں کے اختتام کے ساتھ ہی چترال کی آب وہوا میں سوتیلا پن شروغ ہوجاتا ہے اور سر منڈواتے ہی اولے پڑے کے مصداق سردی کی آمد آمد میں ہی ہوا میں خنکی پیدا ہوکر ہریالی کو ختم کرنے کے درپے ہوجاتی ہے اور سال کے اختتام تک ہوتے ہوتے تمام جمادات گنجے ہوجاتے ہیں اور ہر طرف سناٹے چھا جاتا ہے۔ موسم اگر تھوڑا سا انگڑائی لیتا ہے تو بادل رو رو کے جمی ہوئی برف کی صورت میں زمین کو سفید چادر سے ڈھانپ دیتی ہے۔

موسم کی صحت میں ٹھراؤ آتے آتے تقریبا نئا سال چار مہینوں کا انکڑا طے کرجاتا ہے اور سورج شمال کی جانب جب جھکتا چلا جاتا ہے تو بدن سے گرم اور اونی پہناوے کم ہونا شروغ ہوجاتے ہیں اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہار آنے والا ہے یا آچکی ہے۔ تب تک سال کا پانچواں مہینہ شروع ہوچکا ہوتا ہے۔ چلو بہار آجاتا ہے اور لوگوں میں خوشی اور نباتات کو بھی جوبن آجاتا ہے۔ اور پرندوں کی چہچہاہٹ، تازہ میوں کی بہتات میں مگن ہوتے ہی  کچھ لمحے بعد پھر احساس ہوتا ہے کہ پھر سے سال اپنی عمر کے آخری سانسوں تک پہنچ چکا ہوتا ہے اور ساتھ ہی کئی دشواریوں کے لیے خود کو تیار کرکے چترالی پھر سے گرم کپڑے اوڑھنے کی تیاری کرتے ہیں۔

یہ چترال میں بہار کے چار دن ہوتے ہیں۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
25310cookie-checkچترال میں بہار

کالم نگار/رپورٹر : زیل نیٹ ورک

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیٹ ورک چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This