خزاں رسیدہ پتے کی شاگردی

سرراہ، یونہی چلتے چلتے، ایک اوندھے منہ لیٹے پتے سے ملاقات ہوگئی۔ گٹر کے آہنی، مگر جالی دار، ڈھکن کے اوپر لیٹا یہ زردی مائل  پتااپنا سا لگا۔ میں نے موبائل کا رُخ پتے کی طرف کیا، اور اس کی تصویر اُتاری۔ نہ جانے کیوں گرے ، روندے اور خزان رسیدہ پتے اپنے اور اچھے سے لگتے ہیں۔ کوئی تو فلسفہ یا سانحہ ہوگا، جو نظروں کو گٹر کی جالی پر گرے پتے کی اداسی اور تنہائی قید کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ تصویر لیتے وقت میں نے محسوس کیا کہ پتا کچھ کہہ رہا ہے۔ میں جھک گیا، تاکہ اس کی مدہم سی آوا زسُن اور سمجھ سکوں۔ “کیوں لے رہو میری تصویر؟”، پتے کی آواز آئی۔ میں مارے تحیر کے چُپ ہو کر رہ گیا۔ پتا کیسے بول سکتا ہے بھلا؟، ذہن میں سوال آیا، لیکن میں خاموش رہا۔ “ہاں جی، کیوں تصویر لے رہے ہیں آپ میری؟”، دوبارہ آواز آئی۔ “ویسے ہی۔

بے خیالی میں لی ہے آپ کی تصویر۔

 آپ کہتے ہیں تو میں ڈیلیٹ کر دیتا ہوں۔”

 “نہیں۔ رکھو یار۔ تم بھی کیا یاد کرو گے”، پتا بولا۔ “یار تم بول کیسے سکتے ہو؟”، میں نے حوصلہ پاتے  ہی دوستانہ انداز میں پوچھا۔ “تم مجھے سُن کیسے سکتے ہو”، طنزیہ انداز میں پتا بولا۔ “میرے کان ہیں۔ میں سُن سکتا ہوں۔” “میرا بھی منہ ہے، میں بول سکتا ہو”، پتا تنک مزاجی کے ساتھ گویاہوا۔

“خیر، میں تمہاری تصویر اس لیے رہا تھا کہ شائد مجھے تم پر ترس آرہا تھا”، میں نے جوابی حملہ کیا۔ “مجھ پر کیوں ترس آرہا تھا بھلا آپ کو؟”، پتا بولا۔ “اب دیکھو نا، تمہارے سارے ساتھی ہرے ہیں، درخت پر ہیں، ہوا میں جھوم رہے ہیں، اور تم یہاں گٹر کے اوپر اوندھے منہ پڑے ہو۔ تمہارا رنگ بھی زرد ہوگیا ہے۔ اس حالت میں تو کسی کو بھی تم پر ترس آئے گا۔”، میں نے طنزیہ انداز میں کہا۔ “اچھا۔ ۔۔۔۔

 (تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی ہے)۔ تم کیا کر رہے ہو آج کل۔” “تمہاری تصویر لے رہا ہوں”، میں نے حملہ مزید شدید کرتے ہوے جواب دیا۔ “ویسے تمہیں مجھ میں کیا دکھتا ہے”، پتا فلسفیانہ انداز میں ایک اور سوال داغ دیا۔ “آج تو تم مجھے دیامر کے اُس بیٹی کی ٹوٹتی اُمید لگ رہی ہو، جو سکول کی عمارت کے ساتھ شعلوں کی نذر ہوا ہے”، میں نے بے خیالی میں جواب دیا، اور پھر اپنے جواب پر غور کرنے کی کوشش کی، لیکن ایک اور جُملہ دماغ میں کوندھ گیا۔ “ویسے تمہیں معلوم نہیں ہوگا، لیکن تم پہلے پتے نہیں ہو مجھ سے مکالمہ کرنے والے۔ تم سے پہلے بھی بہت سارے گرے، خزاں رسیدہ پتوں سے علیک سلیک رہی ہے۔” “بعض اوقات تم مجھے اُس نوجوان لڑکی کی آخری سوچ لگتے ہوے، جو گلے میں پھندا ڈالنے سے پہلے اُس کے ذہن میں نمودار ہوتا ہے۔ ” “اور ہاں، بعض اوقات مجھے تم میں اپنے ارمانوں، امیدوں ، خوابوں اور خواہشوں کی لاش جھلکتی ہے۔ “، میں نے جواب جاری رکھا۔ نہیں معلوم یہ الفاظ اور جملے کہاں سےآرہے تھے، لیکن میں نے خود کو روکنے کی کوشش بالکل بھی نہیں کی۔ “یار، تمہیں مجھ میں منفی چیزیں ہی کیوں نظر آرہی ہیں۔ اور اگر میں اتنا ہی منفیت سے بھرا ہوا ہوں تو میری تصویر کیوں لے رہے تھے تُم”، پتے نے ناراض ہوتےہوے سوال پوچھا۔ “مجھے نہیں معلوم۔ لیکن، مجھے تمہاری تنہائی اور ویرانی سے گویا محبت سی ہے۔ تمہیں دیکھ کر مجھے اپنائیت کااحساس ہوتا ہے”، میں نے دلجوئی کے انداز میں جواب دیا۔ “وہ کیوں بھلا”، پتا بولا۔ “شائد اس لئے کہ مجھے تم میں اپنا آپ نظر آتا ہے۔ تمہیں دیکھتا ہوں تو شائد ایسا لگتا ہے کہ آئینہ دیکھ رہا ہوں”، میں نے جواب دیا۔ “لیکن اگر شکل مکروہ ہو تو کون بار بار آئینہ دیکھتا ہے، میرے بھائی”، پتے نے سوال کیا۔ “شائد احساسِ ندامت ؟یا احساسِ کمتری؟”، میں نے کہا۔ “یا پھر دوبارہ ہراہونے کی خواہش،”، پتے نے لقمہ دیا۔ “وہ کیسے بھلا” ،میں نے بیزاری کے عالم میں جواب دیا۔ “دیکھو میرے دوست، تم مجھے جس بھی نظر سے دیکھو، میں کچھ ہی دنوں میں خاک میں شامل ہو جاوں گا، اور اسی فنا میں ہی میری بقا ہے”، پتا بولا۔ میں خالی آنکھوں ، اور خالی ذہن کے ساتھ اسے دیکھتا رہا۔ “دیکھو، میرے لیے درخت سے گرنا اہم نہیں ہے، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میں دوبارہ جنم لوں گا”، پتا بولا۔ “میری آج کی حالت شکست کی ہے، لیکن یہ شکست عارضی ہے۔ ابھی میری مکمل تخریب ہونی ہے۔ ابھی میں نے روندا جانا ہے۔ابھی میں نے ریزہ ریزہ ہونا ہے۔ ابھی ہوا چلے گی اور میں اس گڑ میں گر کر پانی کے ساتھ بہتا ہوا دور نکل جاوں گا، یا پھر کسی کے پاوں کی ٹھوکر مجھے اس جالی دار ڈھکن سے پرے دھکیلے گی ۔ لیکن جو بھی ہو، مجھے یقین ہے کہ میں ختم نہیں ہونے والا۔ کسی نہ کسی شکل میں میرا دوبارہ ظہور ہونا ہے”، مجھے پتے کا یہ جواب سن کر رشک ہوا۔ “بڑا یقین ہے آپ کو اپنی قسمت پر”، میں نے کاٹ دار انداز میں پوچھا۔ “دیکھو، تم نے ابھی کہا کہ مجھ میں تمہیں اپنی شکل نظر آتی ہے۔ کہا ناں”، پتے نے استادانہ انداز میں نرمی سے پوچھا۔ “جی سس۔۔۔۔”، میرے منہ سے لفظ “سر” بس نکلنے ہی والا تھا کہ میں نے اسے ایک چھوٹی سی سیٹی میں بدل دیا۔ اس کے استادانہ جملے نے میرے اندر چھپے شاگرد کو شائد بیدار کر دیا تھا۔ “اگر میں اس حالت میں بھی پُرامید ہوں، درخت سے کٹ کر دور گرنے کے بعد بھی ہریالی کے خواب دیکھتا ہوں، تو تمہیں بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ خزاں کے بعد سرما کا موسم آئے گا، برفباری ہوگی، شدید طوفانی آندھیاں چلیں گی، مگر پھر بہار کا موسم دوبارہ آئے گا، اور میں ذرے کی شکل میں کسی نہ کسی پتے کے وجود کا حصہ کبھی نہ کبھی دوبارہ بنوں گا۔ “جی”، میں نے مختصر سا جواب دیا۔ “آئندہ مجھے دیکھو گے تو کیا نظر آئے گا”، پتے نے پوچھا۔ “اُمید”، میں نے جواب دیا۔ میں مرعوب ہو چکا تھا۔ خزاں رسیدہ پتے کی شاگردی اختیار کر چکا تھا۔ میری آنکھوں میں آنسو کے کچھ موٹے قطرے آگئے۔نظر دھندلا سی گئی۔ چند ثانیے ہی گزرے ہونگے۔ دوبارہ آنکھ کھولی تو پتا موجود نہ تھا۔ شائد گٹر میں گر گیا تھا۔ شائد ہوا کے دوش پر اڑتا ہوں کہیں نکل گیا تھا۔ اب مجھے اس کی پرواہ نہ تھی، کیونکہ میں جانتا تھا کہ یہ پتہ خاک میں مل کر ہی گلزار بنے گا۔

Zeal Mobile Reporter
Share This