تقریب بمناسبت بابائے کھوارکمالِ فن ایوارڈ  ۲۰۲۰ء

چترال (زیل نمائندہ )مرکزی انجمن ترقی کھوار چترال کے زیرِ انتظام “بابائے کھوار شہزادہ حسام الملک کمالِ فن ایوارڈ ۲۰۲۰ء ”  کے حوالے سے  تقریب گزشتہ روز ڈسٹرکٹ اسمبلی ہال چترال ٹاؤن میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی  ڈپٹی کمشنر چترال لوئر جناب نوید احمد  تھے۔پروگرام کی صدارت  پروفیسر اسرارالدین نے  کی جبکہ  مہمان اعزاز کی حیثیت سے استاد الشعراء جناب امین الرحمن چغتائی  تشریف فرما تھے۔ کھوار زبان و ادب   کے لیے گرانقدر خدمات انجام دینے والے  شعراء، ادبا، لکھاری اور  فنکاروں میں انجمن کے ایوارڈ کمیٹی کے فیصلے کی بنیاد  پر ابتدائی طور پر ۲۸ شخصیات کو بابائے کھوار کمالِ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ایوارڈ یافتہ  حضرات کے  اسمائے گرامی یہ ہیں: پروفیسر اسرارالدین،   امین الرحمن چغتائی  ،  ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی  ، جناب امیرگل امیرؔ مرحوم (بعد از مرگ)،  امیر خان میر  ، جناب گل نواز خاکی مرحوم (بعد از مرگ)، ناجی خان ناجی  ،ڈاکٹرقاری بزرگ شاہ الازہری  ، جناب مولا نگاہ نگاہؔ  مرحوم (بعد ازمرگ)، محمد عرفان عرفان  ،شیر ولی خان اسیر  ؔ، مولانا محمد نقیب اللہ رازیؔ  ،  گل مراد خان حسرتؔ  ،  اقبال حیات   ، پروفیسر رحمت کریم بیگ  ، چئرمین شوکت علی  ، اقبال الدین سحر  ، افضل اللہ افضل  ، شیر افضل شاذی  ، عنایت اللہ اسیر  ،  ظفراللہ پرواز  ، ذاکر محمد زخمی   ، محمد حسن  ، بابا فتح الدین  ، سلطان غنی  ، منصور علی شباب  ، آفتاب عالم آفتاب   اورجناب  خالد بن ولی مرحوم (بعد از مرگ)۔اس  پررونق تقریب کے لیے چترال کے ثقافت دوست فرزند  جناب محمدنبی خان، جو  بارسلونا اسپین میں مقیم ہیں، کا مالی تعاون شامل تھا،جس کی پیشکش  جناب فدالرحمن ڈائریکٹر اسامہ وڑائچ کیرئیر اکیڈمی کے کوارڈنیشن کی وساطت سے ہوئی تھی۔

تقریب کے معزز مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر چترال لوئر  نوید احمد   نے لکھاریوں اور شعراء و ادبا کی گرانقدر خدمات  اعتراف میں منعقدہ  ایوارڈ تقریب کی شاندار الفاظ میں تعریف کی اور کہا کہ ضلعی انتظامیہ چترال کے شعراء اور ادبا کی حوصلہ افزائی کے لیے انجمن کے شانہ بشانہ ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہے ۔انہوں نےانجمن ترقی کھوار کے لیے ایک مستقل دفتر اور اسٹبلشمنٹ دلوانے کے لیے انتظامی سطح پر کام آغاز کرنے کا وعدہ کیا، تاکہ کھوار زبان و ادب   کی ترویج و ترقی کی خاطر کام کرنے والے شعراء و ادبا اور محققین کو ایک درست پلیٹ فارم میسر آ سکے اور ان کی خدمات کی حوصلہ افزائی ہو سکے اور انہیں تحریک ملتی رہے۔

صدر محفل  پروفیسر اسرارالدین   نے اپنی تقریر میں  اس طرح کی ایک نمایاں تقریب منعقد کرنے اور شعراء  و ادبا کی خدمات کے اعتراف کی خاطر “بابائے کھوار کمال فن ایوارڈ”  متعارف کرانے  پر انجمن ترقی کھوار کی کوششوں کو شاندار الفاظ میں سراہا، اور فرمایا  کہ شعراء و ادبا اور فنکاروں کی حوصلہ کی خاطر یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

شام کے کھانے کے بعد  ایک بارونق محفلِ مشاعرہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔ محفل مشاعرے کی صدارت معروف شاعر و گلوکار جناب اقبال الدین سحر نے کی جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے چترال کے معروف محقق، دانشوراور سکالر پروفیسر ممتاز حسین   نے شرکت کی۔ مشاعرے میں کھوار شاعری کے معتبر ناموں سمیت چالیس  سے زیادہ شعراء نے کلام پیش کیے  اور حاضرین سے خوب داد حاصل کی۔  پروگرام کے اختتام پر انجمن ترقی کھوار کے مرکزی صدر جناب شہزادہ تنویرالملک   نے مہمانانِ گرامی، سینئر شعراء و ادبا ، حاضرین   اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے لیے مالی تعاون کرنے پر  جناب محمد نبی   کی ثقافت و ادب دوستی کی تعریف کی اور اُن کا شکریہ ادا کیا۔یوں پانچ گھنٹوں اور دو نشستوں پر محیط یہ شاندار تقریب رات کے گیارہ بجے اختتام کو پہنچا۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
120290cookie-checkتقریب بمناسبت بابائے کھوارکمالِ فن ایوارڈ  ۲۰۲۰ء

کالم نگار/رپورٹر : ظہور دانش

Share This