Supreme Court Dam Initiative

جے یو آئی  زیرین چترال میں امیر اور جنرل سیکریٹری کے ہاتھوں ہائے جیک ہوچکی ہے، سابق تحصیل ناظم

چترال (زیل نمائندہ) جمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما اور سابق تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس نے کہا ہے کہ لوئر چترال ضلع میں جے یو آئی امیر اور جنرل سیکرٹری کے ہاتھوں ہائی جیک ہوگئی ہے اور پارٹی کی صفوں میں انتشار پھیل رہی ہے جہاں مخلص کارکنان کو ماورائے دستور اپنے راستے سے ہٹانے سے کوشش کی جارہی ہیں اور رکنیت سے اخراج کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جارہا ہے۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ا نہوں نے کہاکہ جے یو آئی ضلع لویر چترال کے کالعدم امیر اپنے کالعدم کابینہ کو لے کر ان کی رکنیت معطل کی ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ انہیں یہ خبر سوشل میڈیا میں فیس بک کے ذریعے مل گئی لیکن ابھی تک انہیں لیٹر نہیں ملا۔ انہوں نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے جمعیت کی دستور کی پاسدار ی کرتے ہوئے ہر غیر دستوری قدم کی مخالفت کی اور بالائی نظم کو اس سے باخبر رکھاتاکہ چترال میں یہ پارٹی شکست وریخت کا شکار نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ متنازعہ کابینہ کی بنیادہی جعل سازی پر ہوئی ہے جہاں دوسری جماعتوں کے لوگوں سے جعلی ووٹ بھگتاکر موجودہ کابینہ وجود میں لائی گئی تھی اور بحیثیت پارٹی کارکن انہوں نے یہ بات پارٹی کی بالائی نظم کی نوٹس میں لائی تھی۔ انہوں نے کہاکہ جب یہ جعلی مینڈیٹ والے پارٹی کا نظم ونسق سنھبال لیا تو ایم پی اے مولاناہدایت الرحمن کو بھی اپنے نرغے میں لے لیا اور محکمہ ہائے صحت اور تعلیم میں کلاس فور پوسٹوں کو امیر اور جنرل سیکرٹری انعام میمن نے آپس میں بانٹ لیا تو پارٹی کارکنوں میں مایوسی پھیل گئی اور سینکڑوں پرانے کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے پارٹی کے پرچم دفتر میں واپس کردئیے۔ انہوں نے کہاکہ جنرل سیکرٹری انعام میمن کا ایم پی اے پر اتنا اثر ہے کہ ایم پی اے کاموبائل فون بھی ان کے نشان انگوٹھے سے کھلتا ہے۔ مولانا الیاس نے کہاکہ گزشتہ دنوں ڈی سی چترال اور ایم پی اے کے درمیان تلخ گفتگو کی آڈیو کو وائرل کرنے کے ذمہ داروں کی تعین کا بھی مطالبہ بھی انہوں نے پارٹی کی بالائی نظم سے کیا تھا کیونکہ اسے سوشل میڈیا میں وائرل کرنے سے ایم پی اے کو خفت کا سامنا کرنا پڑ ا اور پارٹی کے لیے بھی شرمندگی کا باعث ہوا۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی کی جنرل سیکرٹری کو شیڈول فور میں شامل کرنے کے حوالے سے ابھی ان کا موقف دستور کے عین مطابق تھا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھاکہ جے یو آئی جیسی امن کے عالمبردار پارٹی کے ذمہ دار کو شیڈول فور میں شامل کرنا کی تحقیقات کی جائے اور اگر یہ درست بنیادوں پر ہوئی ہے تو بھی کاروائی کی جائے اور اگر بلاتحقیق اور ثبوت شامل کیا گیا ہے تو بھی حکومت کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ جے یو آئی کے دستور کے دفعہ 12شق 8کے تحت اگر کوئی کابینہ چھ ماہ تک مجلس عمومی جا اجلاس بلانے میں ناکام رہے تو یہ کابینہ خود بخود ختم ہوجاتی ہے اور اس طرح مولانا عبدالرحمن 22جولائی سے اپنے کابینہ سمیت کالعدم ہوچکے ہیں جس کی کوئی دستوری حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اجلاس میں کارکنان کا سامنا کرنے کی قوت نہ رکھنے کی وجہ سے اجلاس بلانے میں ناکام رہ کر اب صوبائی نظم کا حوالہ دیتے ہیں لیکن ان کے مطالبے کے باوجود ضلعی نظم کوئی تحریری ثبوت نہ دیکھا سکے جس میں اجلاس نہ بلانے کی ہدایات موجود ہوں۔ انہوں نے مولانا عبدالرحمن کی طرف سے فیس بک پر اپنے اوپر لگائے گئے اغیار کے ہاتھوں کھلونا بننے کے الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا اور کہاکہ ثبوت پیش نہ کرنے پر وہ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتے ہیں۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
117740cookie-checkجے یو آئی  زیرین چترال میں امیر اور جنرل سیکریٹری کے ہاتھوں ہائے جیک ہوچکی ہے، سابق تحصیل ناظم

کالم نگار/رپورٹر : نور افضل

Share This