Supreme Court Dam Initiative

          بجلی کی لوڈشیڈینگ کے خلاف آئندہ ہفتے سے احتجاج کیا جائے گا، تحریک تحفظ حقوق اپر چترال

بونی (زیل نمائندہ)بلا وجہ اور کسی معقول بہانے کے کافی عرصے سے اپر چترال میں بجلی کی غیر علانیہ طویل لوڈ شیڈنگ کا عمل جاری ہے۔سردیوں میں پانی اور پاور کی کمی کے بہانے علاقے کے لوگوں کو مصیبت میں مبتلا کرنے کے بعد اس وقت متعلقہ محکمے کے پاس کوئی موزون بہانہ بھی نہیں اور بجلی بلا وجہ غائب رہتی ہے اور ساتھ ہی اپر چترال میں مسائل ہیں کہ کم ہونے کے آثار دیکھائی نہیں دیتے۔پبلک ہیلتھ ہے پانی نہیں،موبائل ٹاورز موجود ہیں لیکن سگنل نہیں، انٹر نیٹ کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں لیکن نظام درست نہیں،ضلع بنے عرصہ بیت گیا محکمہ خزانہ موجود نہیں۔ ان تمام مسائل کے پیش نظر تحریک تحفظِ حقوق اپر چترال کی کال پر ایک غیر معمولی میٹنگ اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں مختار احمد لال صدر تحریکِ حقوق اپر چترال کے ہاں منعقد ہوئی جس میں بونی کے علاوہ موڑکھو، کوراغ،پرواک وغیرہ سے تحریک کے اراکین نے شرکت کی۔اجلاس کی صدارت سابق صدر تحریک سرفراز علی خان نے کی جبکہ علاقے کے ممتاز شخصیت ریٹائرڈ منیجر ظہیر الدین مہمان خاص کے طور پر موجود تھے۔ تحریک کے انفارمیشن سکرٹری اور علاقے کی نوجوان سیاسی قیادت پرویز لال نے نظامت کر تے ہوئے میٹنگ کے اغراض و مقاصد علاقے کو درپیش مسائل بیاں کی۔حاضرین میں کوراغ کے وزیر شاہ،پرواک کے عیدی علی،بونی کے ظہیر الدین بابر، رحمت سلام لال،بمباع کے عبد اللہ جان، بونی کے وقار علی،میراگرام نمبر 1 کے شیخ عبد اللہ، بونی کے قربان علی،مختار احمد لال،سلطان نگاہ، سابق یو۔سی ناظم سلامت خان، اوی کے نوجوان ایکٹیویسٹ افگن رضا،بونی کے ظہیر الدین سابق منیجر، سرفراز علی خان اور دیگر نے مسائل پر بحث کی۔ آخر میں اتفاقِ رائے سے ایک قرار داد منظور کی گئی جس کے رو سے ذیل مسائل کے فوری حل پر زور دیا گیا ۔

یہ کہ بجلی کی طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے عوام تنگ آگئے ہیں۔ اس وقت بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی منطق سمجھ سے باہر ہے جبکہ پانی وافر مقدار میں ہے اور موسم بھی سازگار ہے۔ عوام کو بلا وجہ مجبور کیا جا رہاہے کہ وہ پریشان ہو کر سڑکوں پر ائیے۔ اس لیے ایم۔این۔اے چترال، ایم۔پی۔اے چترال ا ور ذمہ دار اداروں کو متنبہ کیا گیا کہ سات7 جولائی تک اگر حالات اسی طرح رہے تو مجبوراً عوام اپنے جائز حق کے لیے سڑکوں پر انے پر مجبور ہونگے۔ اس کی ذمہ داری پھر عوام پر نہیں بلکہ متعلقہ اداروں پر ہوگی۔اور ساتھ ایم۔این۔اے اور ایم۔پی۔اے چترال سے پُر زور مطالبہ کیا گیا کہ اپر چترال کے گریڈاسٹیشن کی نوید بار بار سنائی گئی ہے اس پر کام فی الفور شروع کرانے میں کردار ادا کریں ساتھ محکمہ پیڈو کے دفترات بونی منتقل کرائے جائے کیونکہ اس وقت ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی ہے اور پیڈو سے متعلق مسائل کی بہتات ہے  پیڈو کی دفتر بونی سے دور ہونے کی وجہ سے ان سے وابستہ مسائل کی حل میں مشکلات درپیش ہیں۔

اس وقت پورے اپر چترال اور خصوصاً بونی میں موبائل نیٹ ورک اپنی افادیت کھو چکی ہے ایک دوسرے سے رابطے دتقریباً ناممکن ہوچکے ہیں۔اور ساتھ عالمی وباء کی وجہ سے طلبا ء و طلبات گھروں میں محسور ہوئے ہیں ان کے تعلیمی سال ضائع ہو رہی ہے جبکہ متعلقہ سکول،کالج اور یونیورسٹیز والدین سے فیس اصول کرکے آن لائن کلاسیں چلا رہے ہیں۔لیکن اپر چترال میں تھری جی یا فور جی تو دور کی بات نیٹ ورک ایک دوسرے سے بات کرنے کے قابل بھی نہیں رہے ہیں۔ایم۔این۔اے چترال مسلہ کو قومی اسمبلی کی فلور سے بھی اٹھا چکے ہیں لیکن کوئی نتیجہ بر امد نہیں ہوا۔انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ اس مسلہ کی حساسیت کے پیش نظر اس مسلے کو حل کیا جائے  اور پاکستان ٹیلی کام اٹھارٹی(PTA) سے مطالبہ کیا گیا کہ علاقے میں موجود نیٹ ورک کمپنیوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ معاہدے کے تحت صارفین کو سہو لت فراہم کریں اور ساتھ ساتھ تھری جی اور فور جی کی سہولیت طالب علموں کی دی جائے تاکہ ان کاسال اور وسائل ضائع نہ ہو۔ پی۔ٹی۔سی۔ایل کی فائبر اپٹک کیبل تورکھو،موڑکھو،مستوج اور لاسپور تک بیچھائی گئی ہے عرصہ گزر گیا اسے اسے کارامد نہیں بنایا جا رہا ہے۔ مطالبہ ہے کے فائبر اپٹیک کیبل جہاں جہاں پہنچی ہے اسے کار امد بنایا جائے۔

یہ کہ  اپر چترال ضلع بننے کے بعد اکثریتی محکمے کی سربراہان بونی میں موجود ہیں لیکن محکمہ صحت جیسی حساس ادارے کی سربراہ کو دونوں اضلاع کی ذمہ دار دی گئی ہے اس لیے صحت کے ضلعی سربراہ اپر چترال کو خاطر خواہ توجہ دینے سے قاصر ہے۔ لہٰذا مطالبہ ہے کہ اپر چترال میں صحت کے ضلعی سربراہ یعنی ڈی۔ایچ۔او کی موجودگی کو لازمی بنایا جائے۔

یہ کہ اپر چترال ضلع بننے کے بعد اکثر محکمے کے سربراہان تقرر ہوکر اپر چترال میں اپنے فرائض نبھا رہے ہیں لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا خزانہ/ ٹریژی کے محکمہ ابھی تک اپر چترال میں قائم نہیں ہواہے۔ اس وجہ سے اس محکمے سے متعلق بہت سے مسائل کے حل میں شدید مشکلات درپیش ہیں اور لوگ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر اب بھی مجبور ہیں لہٰذا مطالبہ ہے کہ اپر چترال میں محکمہ خزانہ / ٹریژری قائم کی جائے۔

 

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
117620cookie-check          بجلی کی لوڈشیڈینگ کے خلاف آئندہ ہفتے سے احتجاج کیا جائے گا، تحریک تحفظ حقوق اپر چترال

کالم نگار/رپورٹر : ذاکر زخمی

Share This