Supreme Court Dam Initiative

بونی کے معروف سوشل ورکر شیر غازی کا اپر چترال انتظامیہ سے اپیل

بونی (زیل نمائںدہ) اپر چترال ہیڈ کوارٹر بونی کے معروف سوشل ورکر شیر غازی اپنے ایک اخباری بیان کے ذریعے جناب ڈپتی کمشنر اپر چترال اور اسسٹنٹ کمشنر بونی سے اپیل کر تاہے کہ بونی پُل تا چوک بونی اور چوک بونی تا ریسٹ ہاوس بونی تک کے روڈ کا بلیک ٹاپینگ کا کام عملی طور پر شروع ہو چکا ہے اس میں کام کی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ کی دلچسپی اور کردار کی اشد ضرورت ہے۔شیر غازی کی اپیل کا متن کچھ اس طرح ہے۔

محترم المقام جناب ڈپٹی کمشنر صاحب اپر چترال
جناب اسسٹنٹ کمشنر صاحب اپر چترال بونی
جنابِ عالی!
یہ کہ بندہ بونی ٹیک لشٹ کا سکونتی اور سماجی کارکن ہے۔اپنے علاقے اور قومی خزانے کے لیے دل میں درد رکھتا ہے۔محکمہ C&Wکی جانب سے اپر چترال میں محکمہ C&Wکی ابتدا سے2020؁ جو بھی کام کیے گئے ہیں سب ناکام اور ناقص ہیں۔بونی کروئے جنالی روڈ پر لاکھوں روپے خرچ کرکے صرف دو مہینوں تک کار امد رہا۔بعد میں خیستہ حالی کا شکار ہو کرنہ صرف قومی خزانے کو نقصان ہوا بلکہ عوام کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔
یہ کہ بونی اڈہ تا بونی لشٹ روڈ مبلع87 لاکھ روپے سے تعمیر ہوکر نہ ابتدا کا کوئی پتہ ہے اور نہ انتہا کی کوئی ثبوت ہے درمیان میں کچھ کام ہوا ہے۔اب پُل بونی سے چوک اور چوک سے ریسٹ ہاوس تک روڈ پختہ کیا جا رہاہے لیکن ابھی تک نکاسی کا کوئی کام نہیں ہوا ہے۔

اگر ایسا ہوا تو روڈ پختہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں حالات جوں کا توں رہینگے،دوسرا اہم مسلہ یہ ہے کہ نکاسی کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے بازار کا تمام گندہ پانی گاوں ٹیک لشٹ کے مختلف نالوں میں داخل ہوکر نالوں کے ذریعے گھروں میں پہنچ جاتا ہے۔ جس سے مختلف بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے جناب ولاً سے گزارش ہے کہ موجودہ کام کو اپنے کو اپنے نگرانی میں کروایا جائے اور نکاسی کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔
عرض فدوی
سماجی کارکن شیرغازی

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
117440cookie-checkبونی کے معروف سوشل ورکر شیر غازی کا اپر چترال انتظامیہ سے اپیل

کالم نگار/رپورٹر : زیل نیٹ ورک

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیٹ ورک چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This