Supreme Court Dam Initiative

جماعت اسلامی اپر چترال کے مرکزی دفتر کا افتتاح

بونی(زیل نمائندہ)ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے اپر چترال کے ہیڈ کوارٹرز بونی میں جماعت اسلامی اپر چترال اور الخدمت فاؤنڈیشن اپر چترال کے دفترکا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی اپر چترال مولانا جاوید حسین کے علاوہ جماعت کے اراکین اور بونی کے دیگر سیاسی و سماجی عمائدین نے کثیر تعداد میں موجود تھے۔ جماعت اسلامی اپر چترال اور الخدمت فاؤنڈیشن  اپر چترال کے دفترات کے افتتاح کے بعد ایک مختصر تقریب منعقد کی گئی۔ خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی اپر چترال مولانا جاوید حسین نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے مسائل مشترک ہیں اور انہیں ملکرحل کرنے کے لیے  جماعت اسلامی اپر چترال کے جملہ سیاسی و سماجی عمائدین کے ساتھ ملکر حل کرنے کی  پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اس  موقع پر دوسرے سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی عمائدین جن میں سابق تحصیل کونسلر بونی سردار حکیم اور تحریکِ حقوق اپر چترال کے سرگرم رُکن پرویز لال اپر چترال کے جملہ مسائل سے ایم۔این۔اے کو آگاہ کیا۔ان میں خاص طور پر بجلی کا مسئلہ،گریڈ اسٹیشن،بائی پاس روڈ، تورکھو روڈ کی خستہ حالی،نادرا میں لوگوں کو درپیش مسائل اور نگہبان کے مسائل سر فہرست تھے۔

ایم۔این۔اے مولانا عبدالاکبر چترالی نے اپنے خطاب میں کہا  کہ بجلی اور گریڈ اسٹیشن کی قیام کے سلسلے اطمینان بخش پیش رفت ہوچکی ہے۔ اس سلسلے اگلے سال گولین گول پر اپر چترال کے لیے علحیدہ14 میگاواٹ کا ٹرانسفارمر لگایا جائیگا جس سے اپر چترال کے پاؤر کا مسئلہ حل ہوگا۔ ساتھ انہوں کہا کہ اپر چترال گریڈ اسٹیشن کے لیے 15کروڑ روپے کی پہلی قسط منظور ہو کر اکاؤنٹ میں منتقل ہو چکا ہے اورکورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے کام التوا کا شکار ہے جونہی حالت بہتر ہونگے کام شروع ہوگا اور ساتھ دوسرے ذکر شدہ مسائل کے حل کے سلسلے ہر ممکن جدو جہد کرنے کی یقین دہانی کی۔صدراتی خطاب میں سلطان نگاہ نے کہا کہ مولانا عبد الاکبر ایم۔این۔اے چترال علاقے کے مسائل حل کرنے میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں  اور قومی اسمبلی میں چترال کی نمائندگی کاحق ادا کر رہے ہیں۔

 

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
116570cookie-checkجماعت اسلامی اپر چترال کے مرکزی دفتر کا افتتاح

کالم نگار/رپورٹر : ذاکر زخمی

Share This