Supreme Court Dam Initiative

آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان اور آغا خان ایجنسی فار ہبیٹاٹ کے تعاون سے گرم چشمہ میں 20 بستروں پر مشتمل آئی سولیشن سنٹرپر کام کا آغاز

گرم چشمہ (نمائندہ زیل ) کرونا وائرس کی وجہ سے  پھیلے وبا سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے سلسلے میں آغا خان ڈیویلپمنٹ  نیٹ ورک کے مختلف ادارے چترال کے مختلف علاقوں میں عوام کو ریلیف دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حالیہ دنوں  چترال میں کرونا کے مصدقہ کیس ز، میں اضافے کی بنا پر آغا خان ہیلتھ سروس اور آغا خان ایجنسی فار ہے بی ٹاٹ نے چترال کے عوام کو ریلیف دینے کے سلسلے میں اپنی کوششوں کو تیز کردیا ہے، اس سلسلے میں چترال کے مختلف علاقوں میں آئی سولیشن سینٹر کی تعمیر کاکام زور و شور سے جاری ہے۔ ہمارے نمائندے نےاس سلسلے میں گرم چشمہ میں زیر تعمیر 20 بستروں پر مشتمل آئی سو لیشن سنٹر کے سائٹ کا دورہ کیا۔

جہاں آئی سو لیشن سینٹر کی تعمیر کا کام انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہے۔مذکورہ سائٹ پر موجود ادارے کے نمائندے نے بتایا کہ یہ آئی سو لیشن سینٹر 20 مئی تک مکمل کیا جائے گا۔ آئی سو لیشن سینٹر میں 10 بیڈز خواتین کے لیے اور دس بیڈ مردوں کے لیے مخصوص ہوں گے۔ آئی سو لیشن سینٹر کے لیے چھ عدد باتھ رومز اور چار عدد واشن بیسن بھی تعمیر کئے جارہے ہیں۔ تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو بروقت ہر سہولت فراہم کی جاسکے

اور ہسپتال کے عملے کو بھی اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔موقع پرموجود علاقے کے عمائدین نے آغاخان ایجنسی فار ہے بی ٹاٹ اور آغاخان ہیلتھ سروس کے بروقت اقدام کی تعریف کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح اے کے ڈی این اس سے پہلے پسماندہ علاقے کی ترقی میں بھر پور کردار ادا کرچکا ہے۔ وہ انہی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے وباء کے دنوں میں بھی علاقے کے عوام کو ریلیف دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
115210cookie-checkآغا خان ہیلتھ سروس پاکستان اور آغا خان ایجنسی فار ہبیٹاٹ کے تعاون سے گرم چشمہ میں 20 بستروں پر مشتمل آئی سولیشن سنٹرپر کام کا آغاز

کالم نگار/رپورٹر : زیل نیٹ ورک

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزڈیسک چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This