چترال میں ناروا لوڈشیڈینگ کی وجہ سے کاروباری طبقہ بری طرح متاثر

چترال (زیل نمائندہ)علاقے  میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے نہ صرف گھریلوں صارفین تنگ آچکے ہیں بلکہ کاروباری طبقہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ چترال میں 108میگاواٹ کا پن بجلی گھر کے ساتھ 12میگاواٹ تک چھوٹے پن بجلی گھرموجود ہونے کے باؤجود لوڈشیڈینگ عوام کاجینا حرام کردیا ہے۔ چترال ٹاؤن سمیت اپر چترال کے تمام علاقے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مشکلا ت سے دوچار ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے ۔بجلی سے چلنے والے تمام کاروبار تقریباً بند ہیں اور کاروباری طبقہ اس حوالے سے کافی پریشان ہیں۔

شاہی مسجد روڈ پر مقیم ویلڈنگ  اور سٹیل  کے کاروبارسے وابسطہ افرادکاکاروبار بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ فرید اللہ کا تعلق پشاور سے ہے وہ ایک عرصے سے شاہی مسجد روڈ پر ویلڈنگ اور سٹیل گیٹ کا کاروبار کرتا ہے ان کا کہنا ہے کہ دن میں تین چار مرتبہ بجلی چلی جاتی ہے  مگر گاہک ہم پر دباؤ ڈالتے ہیں  اور اپنا گیٹ یا دوسرا سامان بروقت مانگتے ہیں جس کے لیے  ہم مجبوراً ڈیزل جنریٹر چلاتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنریٹر میں نہ صرف ڈیزل کا خرچہ ہے بلکہ انجن آئل  اور دیگر مشینری بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ہمیں وہ سامان بہت مہنگا پڑتا ہے مگر اکثر گاہک وہی پرانے نرح پر مانگتے ہیں ۔اس کے ساتھ فضل الہی کا بھی ویلڈنگ اور سٹیل گیٹ بنانے کی دکان ہے جو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سنسان پڑی ہے۔
اس حوالے سے چترال بازار کے تاجر یونین کے صدر شبیر احمد  کا کہناتھا  کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے گولین گول پن بجلی گھر کے اہلکاروں ،واپڈا اور پیسکو کے خلاف احتجاج بھی کیا تھامگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور مسئلہ جوں کی توں ہے۔ چترال کے کاروباری طبقہ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واپڈا اور پیسکو کو ہدایت کریں  کہ چترال کے باشندوں کو مفت یا سستی نرح پر بجلی چوبیس گھنٹے فراہم کریں ۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
112320cookie-checkچترال میں ناروا لوڈشیڈینگ کی وجہ سے کاروباری طبقہ بری طرح متاثر

کالم نگار/رپورٹر : گل حماد فاروقی

Share This