پاکستانی مادری زبانوں کا  ادبی میلہ ۲۱ فروری کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا

اسلام آباد (زیل آن لائن) پاکستانی مادری زبانوں کا پانچواں ادبی میلہ ۲۱ سے ۲۳ فروری ۲۰۲۰ءکو پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس اسلام آباد میں منعقد کیا جارہا ہے۔ انڈس کلچرل فورم، پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس اور دیگرمنتظمین نے میلے کے کامیاب انعقاد کے پانچ سال مکمل ہونے پر میلے میں شامل فنون لطیفہ کےپروگراموں کا دائرہ مزید وسیع کیا ہے۔گزشتہ پانچ سال کے دوران مادری زبانوں کا ادبی میلہ وفاقی دارلحکومت کے ثقافتی اور ادبی منظرنامے کی کی ایک نمایاں سرگرمی بن کر ابھرا ہے۔ میلے کے انعقاد میں تعاون کرنے والے اداروں میں فاونڈیشن اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ، فرڈرچ نومن فاونڈیشن پاکستان، الٹرنیٹو ریسرچ انیشیٹو ، پنجاب انسٹیٹوٹ آف لینگویج ، آرٹ اینڈ کلچر، انفارمیشن اینڈ کلچر ڈپارٹمنٹ پنجاب ، شعبہ ثقافت حکومت سندھ، ایکو سائنس فاونڈیشن، پاکستان سائنس فاونڈیشن، سوسائٹی فار الٹر نیٹو میڈیا اینڈ ریسرچ اور دیگر شامل ہیں۔

مادری زبانوں کا ادبی میلہ ، ہر سال مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ۲۱ فروری کو منعقد کیا جاتا ہے جس میں پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں میں لکھے جانے والے ادب کی ترویج اور ثقافتی تنوع کا جشن منایا جائے۔تین روزہ میلے میں پاکستان کی ۲۰ زبانوں کے ۱۵۰ سے زائد مصنفین، دانشور ، فنکار اور ادب و ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے لاتعداد شرکت کریں گے ۔

مادری زبانوں کے اس ادبی میلے میں چترال میں بولی جانے والی مختلف زبانوں کی نمائندگی  سمیت کھوار اور چترال میں سرگرم   ادبی تنظیموں کی نمائندگی شہزادہ تنویرالملک، محمد یوسف شہزاد،  فخرالدین اخونزادہ ،فرید احمد رضا، ظہورالحق دانش  ،فریدہ سلطانہ فری  اور دوسرے کریں گے۔اس میلے میں مئیرتنظیم کے صدر فرید احمد رضا اور ظہورالحق دانش کی ‘کھوار اور انگریزی کھوارلوک کہانیوں ‘کی کتاب کی رونمائی بھی ہوگی جس کی طباعت لوک ورثہ اسلام آباد کی زیر نگرانی ہوئی ہے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
112050cookie-checkپاکستانی مادری زبانوں کا  ادبی میلہ ۲۱ فروری کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا

کالم نگار/رپورٹر : زیل نیٹ ورک

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزڈیسک چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This