جامعہ چترال میں یوم چترال منایا گیا

چترال (زیل نمائندہ) چترال کی ثقافتی و لسانی تنوّع کو اجاگر کرنے اور تکثیریتی اقدار کو پروان چڑھانے کے لیے یونیورسٹی آف چترال میں ثقافتی دن  یوم چترال “چھترارو انوس”منایا گیا۔  ڈائریکٹریٹ آف اسٹوڈینٹ سوسائٹیز اور شعبہ منجمینٹ سائنسز کے زیراہتمام چترال ڈے  کے موقع پر جامعہ کے ہال میں ایک خوب صورت تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یونیورسٹی کے لان میں چترال کے روایتی کھانوں، فن پاروں اور ہینڈی کرافٹس کے اسٹال لگائے گیے ۔ جامعہ کے جملہ استاتذہ، اسٹاف اور طلبہ و طالبات نے ثقافتیلباس زیب تن کیے یوم چترال کی رونق میں اضافہ کیا۔

مرکزی تقریب کا خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے رجسٹرار بشارت حسین یوم چترال منانے کے اغراض و مقاصد بیان کیا اور چترال کی روایتی اشپیری کے ساتھ یوم چترال کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر تاج الدین شرر، پروفیسر ممتاز حسین، سرور صحرائی،علی اکبر قاضی، ظفراللہ پرواز، پروفیسر شمس النظر فاطمی اور دوسروں نے چترال ڈے کے کامیاب انعقاد پر جامعہ چترال کے انتظامیہ اور فیکلٹی ممبران کا تہہ دل سے شکریہ اداکیا۔

انہوں نے کہا کہ ثقافت ہر زندہ قوم کی پہچان ہوتی ہے اور چترالی قوم ثقافتی دن ‘یوم چترال ‘مناکر زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا۔اس موقع پر فریدہ سلطانہ فری اور دوسرے شعراء نے بھی یوم چترال کی مناسبت سے نظم بھی پیش کی۔ تقریب کے آخر میں پراجیکٹ ڈائریکٹر جامعہ چترال پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور شرکاء میں ایوارڈ تقسیم کیے۔

یوم چترال کے موقع پر روایتی کھانوں ، فن پاروں اور ہینڈی کرافٹس کے اسٹال میں لوگوں نے خصوصی دل چسپی لی اور جامعہ کے طلبہ کی کاوشوں کو سراہا۔ اس موقع پر ایک محفل موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں صدائے گلستان منصور علی شباب نے اپنی مسحور کن آواز سے حاضرین کو محظوظ کیا۔

 

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
107400cookie-checkجامعہ چترال میں یوم چترال منایا گیا

کالم نگار/رپورٹر : جمشید احمد

Share This