دنیابھرمیں آج بچوں کاعالمی دن منایاجارہاہے

تفصیلات کےمطابق بچوں کوان کے حقوق کےساتھ بہترصحت اور طبی حقوق کے تحفظ کی آگاہی کیلئے بیس نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

بچوں کاعالمی دن منانےکی ابتداء 1954میں ہوئی اس دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے منظور شدہ حقوق کااعلان کیا تھا ۔

1989میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے منظور شدہ حقوق کا اعلان کیا، جس کے بعد 20نومبر 1990کو دنیا کے تقریباً 186 ممالک نے بچوں کے عالمی دن کی منظور شدہ حقوق کے مطابق باضابطہ حمایت کر کے اسے قانونی شکل دے دی اور ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال 20 نومبر کو بچوں کاعالمی دن قرار دیا۔

عالمی ادارہ صحت کےمطابق ترقی پذیرممالک میں محض 15 فیصدبچوں افراد کو ضروری طبی سہولیات میسر ہیں۔ غریب ممالک میں مرگی کے مرض میں مبتلا دو تہائی مریض ادویات سے محروم ہیں۔

بچے

یونیسیف کے مطابق دنیا میں روزانہ 3 لاکھ 60 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں، جبکہ روزانہ 24 ہزار بچے موت کی منہ میں چلے جاتے ہیں۔

خیبرپختونخواہ کے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے ایک ریلی کے موقع پر گفتگو کرتےہوئےکہاکہ دنیا بھر میں آج یوم اطفال منایاجارہاہے،بچوں کےلیے مختلف امورپرآگہی ناگزیرہے۔

بچے

شوکت یوسفزئی کاکہنا تھا کہ حکومت بچوں کے حقوق کےلیے بہتر قانون سازی کررہی ہے، لاوراث بچوں کے حقوق کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ اسکولوں میں تشدد کے خاتمے پر توجہ دے رہے ہیں۔ بچوں پر تشدد روکنے کے لیے جسٹس کمیٹیوں کا قیام جلد ہوگا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوٹیرس نےبچوں کےعالمی  دن  کےموقع پر پیغام  دیتے ہوئے کہا کہ بچے ہمیں اپنی قیادت اورطاقت  کے ذریعےدنیاکومستحکم اورمضبوط بنانےمیں اپناکردار ادا کررہےہیں ’’چلیں آئیےہربچےکے لئے،ہرحق کےلئے،بچوں کوپہلےرکھنےکاعہد کریں۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
106560cookie-checkدنیابھرمیں آج بچوں کاعالمی دن منایاجارہاہے

کالم نگار/رپورٹر : زیل نیٹ ورک

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیٹ ورک چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This