مدک لشٹ میں سنو سکینگ کے دلچسپ مقابلے  اختتام پذیر

مدک لشٹ(گل حماد فاروقی) چترال کی  جنت نظیر وادی مد لشٹ  میں پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر منانے والا سنو سکینگ فیسٹیول دلچسپ انداز میں اختتام پذیر ہوا۔ اس کھیل میں مقامی کھلاڑیوں کے علاوہ سوات، گلگت ، اسلام آباد، پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں سے بھی سنو سکینگ کھلاڑیوں اور چیمپینز نے حصہ لیا اور فیسٹیول کے رنگ کو دوبالا کیا۔ اس خوبصورت کھیل میں چار کیٹیگریوں پر مشتمل کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ 8 سے 12 سال جن میں نذیر احمد نے پہلی پوزیشن حاصل کی روح الامین نے دوسری اور مرتضےٰ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔13 سے سولہ کے کھلاڑیو ں میں عباد الرحمان نے اول ، عماد حسین نے دوسری جبکہ انعام اللہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔س16 سے 25 سال کے عمر کے کھلاڑیوں میں عاشق حسین نے پہلی پوزیشن، واصف علی نے دوسری جبکہ سلطان نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔25 سال کے عمر کے کھلاڑیوں میں عبد الحفیظ نے پہلی پوزیشن حاصل کی، برہان نے دوسری اور سید جعفر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
شہزادہ سکندر الملک جو چترال پولو ایسوسی ایشن کا صدر بھی ہیں ہمارے نمائندے کو بتایا کہ میں صوبائی ٹورزم تھنگ ٹینکر کا رکن بھی ہوں مگر مجھے حیرانگی اس بات پر ہے کہ ایک طرف صوبائی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ سیاحت کو فروغ دیں گے اور چترال سب سے اول نمبر پر ہے مگر دوسری طرف اس دلچسپ کھیل میں کسی نے شرکت بھی نہیں کی اور نہ کوئی فنڈ فراہم کی گئی۔
حاجی انذر گل نے کہا کہ یہاں دو کھلاڑیوں کے ٹانگ ٹوٹ گئے مگر انتظامیہ کی جانب سے کوئی ڈاکٹر بھی موجود نہیں ہے اور نہ کوئی میڈیکل کیمپ لگایا گیا ہے۔
بریگیڈئیر افندی کا کہنا ہے وہ ساٹ سالوں سے سنو سکینگ کھیل رہا ہے مگر یہاں آکر اس کی حیرانگی کی انتہاء نہ رہی کہ یہ خطہ قدرتی طور پر اس کھیل کے لیے  نہایت موزوں ہے ۔انہوں نے اس بات پر نہایت مایوسی کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مد ک لشٹ میں منعقد ہونے والے سنو سکینگ کھیلنے والے کھلاڑیوں اور تنظیم کے اراکین کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کی گئی ۔ انہوں نے مقامی لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کوئی ہوٹل، ریسٹورنٹ یا گیسٹ ہاؤس نہیں ہے مگر تین سو مہمانوں کو مقامی لوگوں نے اپنے گھروں میں رکھ کر مہمان نوازی کی مثال قائم کی۔
ہندوکش سنو سپورٹس ایسوسی ایشن کے صدر شہزادہ حشا م الملک نے کہا کہ یہ کھیل پچھلے سو سالوں سے یہاں کھیلا جاتا ہے مگر اسے باقاعدہ طور پر ایک تہوار کے طور پر کبھی نہیں منایا گیا تھا ہم نے پہلی بار اسے منظم طریقے سے منایا جس میں ملک بھر کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور چترال کے جن علاقوں میں بھی سنو سکینگ کی گنجائش موجود ہیں ہم ضرور وہاں یہ کھیل کھیلیں گے اور اسے بین الاقوامی سطح پر بھی روشناس کرایں گے۔
پروگرام کے اختتام پرکمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل معین الدین نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ اس موقع پر چند بچیو ں نے بھی اس کھیل میں حصہ لینے کے بعد بتایا کہ ہم بہت خوش ہیں کہ پہلی بار یہاں کی بچیاں بھی سنو سکیگ میں حصہ لے رہی ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ آئندہ بھی لڑکیوں کے لیے  سنو سکینگ کھیلنے کا اہتمام کیا جائے۔

واضح رہے ضلعی انتظامیہ نے 15سے 17فروری تک زیرین چترال کے بالائی علاقہ مدک لشٹ میں سنوفیسٹیول کے انعقاد کا پروگرام بنایا تھا۔فیسٹیول سے پہلے چترال میں موسم خراب ہونے اور شدید برف باری کی وجہ سے ایوینٹ کو منسوخ کرنا پڑا۔جواز یہ تھا کہ چونکہ مدک لشٹ کافی اونچائی پر واقع ہے اور وہاں تک پہنچنی والی سڑک برفانی تودے گرنے کی زد میں ہے اور شائقین کو مشکلات درپیش ہوں گے۔  انتظامیہ کی طرف سے غیرمقامی افراد کو علاقے کی طرف نہ چھوڑنے  اور روڈ کی بحالی کا نوٹیفیکشن بھی جاری ہوا تھا۔

Zeal Mobile Reporter
Share This