Supreme Court Dam Initiative

چیف آف آرمی اسٹاف کے خصوصی ہدایت پرچترال کے دورافتادہ اورپسماندہ علاقوں میں 30مختلف پراجیکٹ پرکام تقربیا73فیصدکام مکمل

چترال(نامہ نگار)کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل معین الدین کے زیرصدارت چترال سکاؤٹس چھاونی میں منتخب نمائندوں، سرکاری اورغیرسرکاری سربراہوں، سیاسی اورمذہبی جماعتوں کے رہنماوں کا ایک مشترکہ کوارڈنیشن کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل معین الدین نے کہاکہ اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد عوامی نمائندوں، سرکاری افیسرزاورعوام کے درمیان تعلقات کوبہترکرنا، چترال کے امن کوبرقراررکھنے، عوامی مسائل حل کرنے اورمستقبل کے لئے لائحہ عمل کرناہے جس سے ضلع چترال کی پسماندگی دورہوسکیں۔ انہوں نے کہاکہ علاقے کے تحفظ کیلئے پاک آرمی اورچترال سکاؤٹس کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرگا۔ افواج پاکستان نے ہر اہم اور حساس موقع پر وطن عزیز کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور ملک دشمن عناصر کی سازشیں ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ امن کی بہترصورتحال کے ثمرات لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ چیف آف اسٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کے خصوصی ہدایت پرچترال کے دورافتادہ اورپسماندہ علاقوں میں 30مختلف پراجیکٹ پرکام ہورہاہے تقربیا73فیصدکام مکمل ہوچکاہے جس میں چھ پل،چھ سکولوں کی مرمت اضافی کمرے،واٹرسپلائی ،پولوگراونڈ،ڈسپنسری ہسپتال وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال کے پسماندگی کومدنظررکھتے ہوئے مختلف علاقوں میں فری میڈیسن، میڈیکل کیمپ، بچوں میں پروٹین کی کمی کوختم کرنے کے لئے سکول میں خوراک، سکولوں میں تربیتی لیکچر، مختلف سکولوں میں کھیلوں کاانعقاد، نیشنل ڈے منانے کااہتمام، نادراورغریب خاندانوں میں راشن اورملبوسات تقسیم کی جاتی ہیں۔

اس موقع پر رکن قومی اسمبلی چترال مولاناعبدالاکبرچترال، ڈسٹرکٹ ناظم حاجی مغفرت شاہ، ڈی پی اوچترال محمدفرقان بلال، اسسٹنٹ کمشنرچترال عالمگیرخان، اسسٹنٹ کمشنردروش عبدالولی خان، ایکسین سی اینڈڈبلیوانجینئرمقبول اعظم، ضلعی نائب ناظم مولاناعبدالشکور، شہزادہ سراج الملک، قاری جمال عبدالناصر، ریجنل پروگرام منیجرآغاخان ایجنسی فارہیبٹاٹ محمدکرم، تجاریونین کے صدرشبیراحمداوردیگرمقریرین نے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے دوران افواج پاکستان کی بے مثال خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ ہر مشکل وقت میں پاک فوج کے جوانوں نے جو قومی کردار ادا کیا وہ قابل ستائش ہے۔ چترال کے عوام ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور قومی دفاع کی خاطران قربانیوں اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مقریرین نے چترال میں اہم اور حساس نوعیت کے روڈ منصوبہ جات بشمول گرم چشمہ روڈ، شندور روڈ ، کالاش ویلیز روڈ اور چکدرہ چترال روڈز پرکام شروع کرنے اورپی آئی اے کے پروازوں کوروزانہ کی بنیادوں پرچلانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ چترال میں بجلی کے بلوں پرغورکرنے کی ضرورت ہے 16روپے فی یونٹ کے حساب سے عوام کو لوٹاجارہاہے بجلی کی رائیلٹی ریٹ میں کمی کرکے عوام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پرآرایچ سی تورکہواورٹی ایچ کیوگرم چشمہ کی آغاخان ہیلتھ سروس سے دوبارہ معاہدے پراپنے خدشات کااظہارکیا۔ انہوں نے کہاکہ چترال پولیس نے منشیات کے خلاف پہلے بھی کارروائیاں کی ہیں ، اور اب بھی پولیس منشیات کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔ منشیات کے لعنت کو ضلع بھرسے ختم کرکے نوجوان نسل کوبچایاجائے۔ اسسٹنٹ کمشنرمستوج عنایت اللہ نے کہاکہ اپرچترال کو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے نظر انداز کیاجارہے کئی بنیادی سہولیات سے اپرچترال کے عوام کو محروم رکھنا زیادتی ہے۔ یوسی یارخون کے گاؤں دیوسرپل دریابردہوکرکئی مہینے گزرگئے باربارحکام بالاکے نوٹس میں لانے کے باوجوداُس پرکوئی توجہ نہیں دی گئی علاقے کے مکین پل نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی مشکلات سے دوچارہیں۔ اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی اپرچترال میں سڑکوں کی حالت قابل رحم ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں 106میگاواٹ بجلی ہونے کے باوجوداپرچترال میں بجلی کابحران محکمہ برقیات کی نااہلی کے سواکچھ نہیں ہے۔روزانہ 20،20گھنٹے لوڈشیڈنگ کرکے عوام کو اندھیرے میں رکھتے ہیں۔ یہ محکمہ برقیات کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ برقیات اپنے نظام کو درست کرتے ہوے پورے علاقے میں ایک ہی شیڈول کے تحت بجلی فراہم کریں۔

Zeal Mobile Reporter
Share This