Supreme Court Dam Initiative

لواری ٹنل روڈ پر برف باری کے باعث مسافروں کو چلنے میں دشواری۔ خطرناک موڑ اور چڑھائی کے باعث پھسلنے کا خطرہ ۔ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا واحد زمینی راستہ لواری ٹاپ پر برف باری کے باعث ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے جبکہ لواری سرنگ کے اندر سے اگرچہ گاڑیاں برف باری کے موسم میں بھی گزرتے ہیں مگر لواری سرنگ کے دونوں جانب سڑک پر شدید برف باری کے باعث گاڑیوں کو چلنے میں نہایت خطرے سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

برف باری کے دوران جب سڑک پر برف جم جاتا ہے تو اس پر چلنا نہایت خطرناک ہوجاتا ہے کیونکہ جمی ہوئی برف پر اکثر گاڑیاں پھسل کر حادثے کے شکار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب اکثر مسافروں نے شکایت کی کہ لواری سرنگ میں چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے از خود نوٹس لینے کے باوجود بھی عملہ اقربا ء پروری کا مظاہرہ کررہے ہیں با اثر اور سفارشی لوگ کسی بھی وقت لواری سرنگ کے اندر سفر کرسکتے ہیں جبکہ غریب عوام کو بلا وجہ اندر کام کے بہانے روک لیا جاتا ہے حالانکہ بسا اوقات یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سیکوریٹی والوں نے گاڑی  روک دیئے مگر اوپر سے فون آنے پر انہیں چھوڑ دیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اندر کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔

چترال کے عوام ایک بار پھر چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ لواری سرنگ میں اقرباء پروری کا سلسلہ بند کیا جائے اور اسے عام مسافروں کیلئے سردی کی موسم میں بلا تفریق کھول دیا جائے تاکہ لوگ بروقت اپنے منزل مقصود تک پہنچا کرے۔

Zeal Mobile Reporter
Share This