Supreme Court Dam Initiative

یک زبان کاروانِ ادب کے زیر انتظام معروف ادیب وشاعر پرنسپل مولانگاہ نگاہ مرحوم کی یاد میں‌تعزیتی ریفرنس

اکیڈمی ادبیات اسلام آباد میں چترال کے معروف شاعر، ادیب، مصنف ، محقق استاد مولانگاہ نگاہ (مرحوم) کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا انعقاد پروفیسر اسرارالدین ، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی اور قاری بزرگ شاہ الازہری کی کوششوں سے ”یک زبان کاروانِ ادب“ تنظیم کے زیرِ اہتمام کیا گیا۔

تعزیتی ریفرنس میں چترال کی نمایاں سیاسی، علمی، ادبی اور سماجی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی، جن میں ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی، پروفیسر اسرارالدین، ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ، ایڈوکیٹ عبدالولی خان عابد، کیپٹن ریٹائیرڈ شہزادہ سراج الملک، قاری بزرگ شاہ الازہری، تقدیرہ خان رضاخیل، ڈاکٹر ظہیرالدین بہرام، ڈاکٹر حبیب الرحمان، عبدالولی سابق کلکٹرکسٹم، فخرالدین اخونزادہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایف ایل آئی، سعید احمد سعید صدر انجمن ترقی کھوار حلقہ پشاور، عنایت جلیل عنبر سرپرست اعلیٰ انجمن ترقی کھوار پشاور، مہربان الٰہی حنفی سابق صدر انجمن ترقی کھوار پشاور، فرید احمد رضا صدر میئر تنظیم چترال، قاری فدا محمد روحِ روان جماعت سلامی چترال، قاضی اخلاق الدین نائب امیر جماعت اسلامی چترال،

وجیہہ الدین صدر جے آئی یوتھ چترال، معروف شاعر مشہود شاہد، معروف نعت خوان صفدر شاہ ساجد، محسن الملک صدیقی لیکچرر یونیورسٹی آف چترال، جاوید فاوقی لیکچرر یونیورسٹی آف چترال، نورشمس الدین شمسی لیکچرر آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول چترال، اقرارالدین خسرو صدر کھوار اہل قلم چترال، منورالزمان ظریف صدر یک زبان کاروانِ ادب سمیت چترال کی تقریباً تمام ادبی تنظیمات کے نمائندے، شعراء  اور اسلام آباد کے مختلف جامعات میں زیرِتعلیم چترالی طلبا ٕ شامل تھے۔


پروگرام میں‌مرحوم کی کھوار زبان و ادب کےلیے خدمات پر اُن کو شاندارالفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اور مرحوم کے نام سے ایوارڈبھی تقسیم کیے گئے ۔ پروگرام کے آخر میں مولاناگاہ نگاہ مرحوم کے فرزند ارجمند پروفیسر ظہورالحق دانش نے خطاب کرتے ہوئے تعزیتی پروگرام منعقد کرنے پرمنتظمین پروفیسر اسرارالدین ،ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، قاری بزرگ شاہ الازہری اور یک زبان کاروانِ ادب کے جملہ کابینہ اور تمام متعلقین کا شکریہ ادا کیا۔

Zeal Mobile Reporter
Share This