Zeal Breaking News

تحصیل کونسل چترال کی جانب سے لٹکوہ میں فصلوں پر لگایا گیا ٹیکس کالعدم قرار

سوات (نامہ نگار) آج پشاور ہائی کورٹ (مینگورہ بینج) سوات میں چترال کے تحصیل کونسل کی جانب سے لاگو کردہ محصول کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت ہوئی جو کہ لٹکوہ کے عمائدیں کی جانب سے ریٹ پٹیشن نمبری ۸۵۰/۲۰۱۸ بنام ریاض احمد، ووربلاخان وغیرہ ، بنام کے پی گورنمنٹ بشمول تحصیل ناظم چترال و ٹی ایم او چترال کے خلاف دائر کر رکھے تھے۔ مقدمے کی سماعت آج یعنی 25 ستمبر بروز پیر جناب جسٹس محمد غضنفر صاحب اور جسٹس سید ارشاد علی صاحب کی عدالت میں ہوئی۔ کیس کی پیروی جناب ایڈوکیٹ رحیم اللہ چترالی پشاور ہائی کورٹ اور ایڈوکیٹ رحمت علی پشاور ہائی کورٹ نے کی۔ سماعت کے بعد مذکورہ ٹیکس کی وصولی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے معطل کرنے کا حکم دیا گیا اور تحصیل ناظم چترال اور ٹی ایم او چترال کو ان پرسن پیش ہونے کا بھی حکم دیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ ٹیکس تحصیل کونسل کی جانب سے لاگو کیا گیا تھا مگر عوامی احتجاج کے بعد تحصیل کونسل کے ممبران بھی ٹی ایم او اور تحصیل ناظم کے خلاف بیان دینے لگے تھے۔ مگر کوئی ٹھوس اقدام سے قاصر تھے اور لٹکوہ کے عوام نے اپنے طور پر اس ٹیکس کو ہائی کورٹ میں چلینچ کر رکھے تھے جو کہ منظور کی گئی تھی اور آج فیصلہ بھی سامنے آیا۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
82380cookie-checkتحصیل کونسل چترال کی جانب سے لٹکوہ میں فصلوں پر لگایا گیا ٹیکس کالعدم قرار
Zeal Mobile Reporter

کالم نگار/رپورٹر : شیر جہاں ساحل

Share This