تورکھو روڈ میں کام کی بندش صوبائی حکومت کے ماتھے پر بدنما داغ ہے،مولانا چترالی

پشاور(نمائندہ زیل ) جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق ممبر قومی اسمبلی  مولانا عبد الاکبر چترالی نے بونی تور کھوروڈ میں تعمیراتی کام کی بندش اور مالکان جائیداد کو ادائیگی نہ ہو نے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے تورکھو روڈ میں جاری کام رک گیا ہے۔ انہوں نے کہا

کہ 2006ء میں ایم ایم اے کے دور حکومت میں بونی اور تور کھو روڈ پر تعمیراتی کا م کا آغازہوا تھا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ گیارہ سال گزر جانے کے باؤجود مذکورہ پرا جیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تو دور کی بات اس پرا جیکٹ پر ابھی تک محض پچاس فی صد کام بھی نہیں ہو ا ہے۔ مولانا چترالی نے  مزید  کہا کہ ستم ظریفی کی بات  یہ ہے  کہ غریب لوگوں کے اوپر سیکشن فور لگا کر زمینات تو حاصل کرلی گئی ہیں لیکن تاحال ان متأ ثرین کو ادائیگی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ڈیڑھ لاکھ کی آبادی میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ  لاکھ کی آبادی کو آمد و رفت میں شدید مشکلات ہیں یہی وجہ ہے کہ تحصیل تور کھو کے باشندوں نے 15 اپریل 2018ء سے پہیہ جام ہڑتال اور مین روڈ بلاک کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبائی حکومت کے ماتھے پر ایک بد نما داغ ہو گا کہ حکومت کے آخری دنوں میں حکومت ہی کی ناکامیوں کے خلاف لوگ سڑکوں پر آئیں اور موجودہ حکومت مردہ باد کے نعرے لگائیں ۔مولانا نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بلا تاخیر بونی تور کھو روڈ پر دوبارہ فوری تعمیراتی کام شروع کرے اور زمین مالکان کو فوری ادائیگی یقینی بنائے بصورت دیگر اگر کوئی بھی نا خوشگوار واقعہ پیش آیا اور امن و امان کا مسئلہ پید اہو ا تو اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو پر ہو گی ۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
62570cookie-checkتورکھو روڈ میں کام کی بندش صوبائی حکومت کے ماتھے پر بدنما داغ ہے،مولانا چترالی

کالم نگار/رپورٹر : زیل نیٹ ورک

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزڈیسک چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This