سرکاری ونجی یونیورسٹیز میں “ایم فل” داخلوں کیلئے نیا ٹیسٹ نافذ

اسلام آباد: ایم ایس ، ایم فل میں داخلوں اور وظائف کے حصول کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہائر ایجوکیشن ایپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ کے انعقاد کا اعلا ن کردیا۔ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے زیر اہتمام ہائر ایجوکیشن ایپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ کے انعقاد کا اعلان کردیا۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے امیدوار سرکاری اور نجی جامعات میں ایم ایس اور ایم فل کے پروگراموں میں داخلہ لینے کے اہل ہوں گے۔رجسٹریشن کروانے کی آخری تاریخ 31جنوری 2018 ہے۔اس ٹیسٹ کا رزلٹ دو سال تک کے لیے کارآمد ہوگااوریہ ٹیسٹ ان امیدواروں کے لیے بھی قابل عمل ہوگاجو مستقبل میں مختلف وظائف کے لیے درخواست دیں گے یاوہ امیدوار جو سرکاری اور نجی جامعات میں ایم ایس یا ایم فل کے پروگراموں میں داخلہ لینے کے خواہش مند ہوں گے۔
اس ٹیسٹ کے چار مختلف زمرہ جات ہیں جن میں انجینئرنگ اور آئی ٹی، مینجمنٹ سائنس اور بزنس ایجوکیشن، آرٹ اورسوشل سائنس اور زراعت، بائیولاجیکل سائنسز، میڈیکل سائنسز اور فزیکل سائنسز شامل ہیں اور ان کیٹیگریز کا نام ہیٹ رکھا گیا ہے ۔
این ٹی ایس کے تحت گزشتہ سالوں میں گیٹ عنوان کے تحت ٹیسٹ لیے جاتے رہے ہیں۔
اس ٹیسٹ میں امیدواروں کی قابلیت جانچنے کے لیے سو فیصد گریڈنگ سسٹم کے حساب سے 40 نمبر کوانٹی ٹیٹو وریزننگ ، 30 نمبر کے لیے وربل ریزننگ اور 30 نمبر کے لیے اینالیٹیکل ریزننگ کے سوالات کیے جائیں گے ۔
یاد رہے کہ ہائر ایجوکیشن ایپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ میں بیٹھنے کے لیے تمام امیدواروں کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ای پورٹل کے ذریعے سے رجسٹریشن کروانا ہوگی۔
امیدواروں کو تاکید کی جاتی ہے کہ رجسٹریشن کرواتے ہوئے اپنی قابلیت کے مطابق درست کیٹگری میں اور ویب سائٹ پر مہیا کیے گئے ٹیسٹ سنٹرز میں سے اپنے قریبی ٹیسٹ سنٹر کا انتخاب کریں۔کامیاب ہونے والے امیدواروں کو ان کے مہیا کردہ ایڈریس پر رول نمبر سلپ بزریعہ ڈاک بھجوا دی جائے گی ۔
طلبہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ویب سائٹ سے بھی رول نمبر سلپ ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
52370cookie-checkسرکاری ونجی یونیورسٹیز میں “ایم فل” داخلوں کیلئے نیا ٹیسٹ نافذ

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This