اپر چترال کو بجلی فراہم نہ کرنے صورت میں امن وامان کی صورت حال خراب ہوسکتی ہے۔ شہزادہ افتخارالدین

کوغذی (نیوز ڈیسک) اپر چترال کو بجلی فراہم نہ کرنے صورت میں امن وامان کی صورت حال خراب ہوسکتی ہے۔یہ بات ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے کوغذی کے مقام پر واٹر اینڈ پاؤر کی اسٹینڈنگ کمیٹی  کے اجلاس   کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے پیڈو اور پیسکو پر واضح کرتے ہوئے  کہا کہ اس طرح ایک پورے علاقے کو بجلی سے محروم رکھنے سے حکومت کو بہت ہی مشکلات پیدا ہوسکتے ہیں ۔اس لیے اس معاہدے کو ترجیحی اور ہنگامی بنیادوں پرعملی شکل دینا ہے۔  واضح رہے اس میٹنگ میں  کمیٹی کے دیگر ممبران شیر اکبر اور جنید اکبر کے ساتھ ساتھ   واپڈا کے ممبر پاؤر ارشد جاوید اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے حکام اور برقیات کا صوبائی ادارہ پیڈو کے نمائندوں نے بھی شرکت کی  اس موقع پر پیڈو اور پیسکو کے نمائندوں نے گولین گول بجلی گھر کے سوئچ یارڈ سے اپر چترال میں پیڈو ٹرانسمیشن لائن کے لئے بجلی کے حصول کو تکنیکی طور پر قابل عمل قرار دیا جو کہ صرف دو اداروں کے درمیان معاہدے کے بعد آسانی سے ممکن ہے جس کے لئے صرف 60فٹ لمبی تار بچھانے کی ضرورت ہوگی۔ اجلاس میں دروش گرڈ اسٹیشن میں کام میں تیزی لانے اور دروش ٹاؤن کو جوٹی لشٹ گرڈ اسٹیشن سے ملانے والی لائن کو مکمل کرنے کے لیے  گہیریت میں بجلی کے کھمبوں کی کمی دور کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ جنوری کے دوسرے ہفتے میں وزیر اعظم کے دورہ چترال کے موقع پر یہ تیار ہوسکے۔ گولین گول پراجیکٹ کے سابق پراجیکٹ ڈائرکٹر خان محمد نے بتایاکہ چند سال پہلے وزیر اعظم کی طرف سے چترال کو گولین گول پراجیکٹ سے بجلی کی فراہمی کا اعلان کے بعد ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کی ذاتی کوششوں کے نتیجے میں اس نے پراجیکٹ میں تھرڈ بے (bay)کی سہولت پیدا کی جس کے بغیر اس وقت آسا نی سے بجلی کو سوئچ یارڈ سے براہ راست مقامی علاقوں کو نہیں دی جاسکتی تھی ۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
48620cookie-checkاپر چترال کو بجلی فراہم نہ کرنے صورت میں امن وامان کی صورت حال خراب ہوسکتی ہے۔ شہزادہ افتخارالدین

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This