بہترین پرفارمنس پر گورنمنٹ ڈگری کالج کو چودہ لاکھ کا انعام

چترال (نمائندزیل) گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کو صوبہ خیبر پختونخوا میں میعار کے حوالے سے تیسرا درجہ دیا گیا ۔اس حوالے سے ایک خوبصورت تقریب کالج میں منعقد کیا گیا ۔ اس تقریب میں بہترین نتائج کے حامل اساتذہ اور طلباء کو انعامات اور اسناد دے دئیے گئے ۔جبکہ صوبائی حکومت کی طرف سے بہترین پرفارمنس پر کالج کو مجموعی طور پر 14لاکھ روپے کا نقدانعام دیا گیا ہے۔ تقریب کے مہمان خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال منہاس الدین تھے

جس نے کالج کے بیسٹ ٹیچرز اور نمایاں پوزیشن لینے والے طلباء میں انعامات تقسیم کی۔ بیسٹ ٹیچر قرار پانے والوں میں پروفیسر سراج احمد، پروفیسر فضل حق اور پروفیسر ضیاء الحق شامل تھے۔ جبکہ انٹرمیڈیٹ میں بہترین ریزلٹ کے حامل طلباء میں منصور احمد، انضمام الرحمٰن، عبدالواحد( ایف ایس سی پارٹ ٹو ) مختار احمد، شہکار مبارک اور ضیاء الرحمن(پارٹ ون ) شامل تھے۔ جنھیں بالترتیب پہلی ،دوسری اور تیسری پوزیشن ہولڈر کو پندرہ ہزار، بارہ ہزار اور آٹھ ہزار روپے انعام سے نوازا گیا۔ اس موقع پردیگر مقررین سید احمد خان، ممتاز عالم دین مولانا خلیق الزمان

پروفیسر عتیق الرحمن، پروفیسر تنزیل الرحمن نے چترال کی ترقی میں کالج کی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اس مادرعلمی سے فارع ہونے والے طلباء زندگی کے مختلف شعبوں میں خدما ت سرانجام دے کر چترال کی تعمیر وترقی میں مصروف ہیں اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ تعلیم کے بغیر ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہاکہ 1969ء میں اپنی قیام کے بعد سے اس ادارے سے علم کی کرنیں پوری وادی کو منور کر رہے ہیں ۔انہوں نے گزشتہ چارسالوں کے دوران اس کالج کی کارکردگی کو بہترین اور مثالی قرار دیتے ہوئے کہاکہ پشاور بورڈ اور شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کے امتحانات میں اس کے طلباء چھائے رہے اور مجموعی طور پر کالج کے نتائج سوفیصد رہے۔

اپنے خطاب میں پرنسپل پروفیسر مسعود احمد نے کہاکہ اس وقت کالج میں دو ہزار کے لگ بھگ طلباء زیر تعلیم ہیں اور معیاری تعلیم کے حوالے سے اب یہ کالج ایک منفرد نام کا حامل ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کالج میں مسائل زیادہ اور وسائل کم ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک کلاس میں دو سو طلباء کی جم غفیر موجود ہوتی ہے ۔ انہوں نے کالج کو درپیش کئی اور مسائل کا ذکرکر تے ہوئے کہاکہ ان کے حل سے چترال کا یہ قدیم ترین ادارہ مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر منہاس الدین نے اپنے خطاب میں کہاکہ انہیں بھی اس عظیم درسگاہ کا طالب علم ہونے پر فخر ہے اور حالیہ برسوں میں کالج کی اعلیٰ کارکردگی ان کے لئے مزید فخر کا باعث ہے جس کا کریڈٹ موجودہ پرنسپل اور ٹیچنگ اسٹاف کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کالج کو درپیش مسائل کے حوالے سے بالائی حکام تک ضلعی انتظامیہ رابطہ کرے گی ۔

انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ اس قدیم درسگاہ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنے تمام وسائل استعمال کرے گی جبکہ یہاں زیر تعلیم طلباء پر فرض عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں اور وقت کو ضائع کرنے والی مشاعل سے اپنے آپ کو دور رکھیں اور اپنی مادر علمی کا نام روشن کریں۔ انھوں نے خصوصی طور پر سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان نسل کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔ لہٰذا اس کے منفی اثرات سے اپنے آپ کو بچانا ہوگا۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
46000cookie-checkبہترین پرفارمنس پر گورنمنٹ ڈگری کالج کو چودہ لاکھ کا انعام

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This