2018 کے عام انتخابات میں دو دینی جماعتوں کے درمیان انتخابی اتحاد

چترال(زیل ڈیسک)عام انتخابات 2018کے لیے چترال میں دو دینی جماعتوں کے انتخابی اتحاد کے لیے اصولی فیصلہ ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں جمیعت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے ضلعی قیادت کے مابین ایک طویل مشاورت کے بعد دونوں دینی جماعتوں نے اگلے سال  ہونے والے عام انتخابات میں مشترکہ پلیٹ فارم سے انتخاب لڑیں گے۔ ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ،نائب ناظم مولانا عبدالشکور،جے یو آئی کےضلعی امیر مولانا عبدالرحمان قریشی،جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مولانا جمشید احمد  اوردونوں پارٹیوں کے  سینیئر قیادت کی  موجودگی میں ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ مرکز اور صوبے میں ایم ایم اے نہ بننے کی صورت میں بھی چترال سے دو دینی جماعتیں انتخابی اتحاد کو برقرار رکھیں گے۔

یاد رہے 2002 کے عام انتخابات میں دونوں پارٹیوں کی انتخابی اتحاد کی بدولت صوبے میں حکومت بننے کے ساتھ چترال میں قومی اسمبلی  کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی تھی۔2015 کے بلدیاتی انتخابات میں بھی دونوں جماعتوں کا اتحاد انہیں ضلع اور دو تحصیلوں میں حکومت بنانے کا موقع فراہم کیا تھا۔ 2018 کے عام انتخابات میں اگر اصولی طور پر دونوں جماعتوں کا اتحاد قائم رہا توچترال کے تین نشستوں میں کامیابی کے مواقع زیادہ ہیں۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
44100cookie-check2018 کے عام انتخابات میں دو دینی جماعتوں کے درمیان انتخابی اتحاد

کالم نگار/رپورٹر : زیل نیٹ ورک

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزڈیسک چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This