سوشل میڈیا کا زائد استعمال ڈپریشن کا باعث بنتا ہے

سوشل میڈیا کا حد سے زیا دہ استعمال براہ راست ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔

تفصیلات کے مطا بق سوشل میڈیا جیسے فیس بک،ٹوئٹر،انسٹا گرام اور دیگر پلیٹ فارم کا استعما ل کر نے کے صرف چند منٹ  بعد ہی ہم اس بات پر یقین کر لیتے ہیں کہ دنیا میں سب لوگ خوش، صحتمند اور بہترین زندگی گزار رہے ہیں اور اس سو چ کے ساتھ ہی ہم اپنا دوسروں کے ساتھ موازنہ شروع کر دیتے ہیں۔

طبی ما ہر ین کے مطا بق ایسی سوچ رکھنے سے ہماری دماغی صحت متاثر ہوتی ہے جبکہ اس سلسلے میں اب تک کی جا نے والی متعدد متعدد تحقیقات سے بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ صرف فیس بُک کا ہی زائد استعمال براہ راست ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔

سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے سے ہم دوسروں کی زندگیوں کو مکمل اور بہترین تصور کرنے لگ جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ہم ذاتی زندگی میں احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے سے ہم دوسروں کی زندگیوں کو مکمل اور بہترین تصور کرنے لگ جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ہم ذاتی زندگی میں احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور مسلسل موازنہ کر تے رہتے ہیں جس کے با عث مزاج بھی تبدیل ہو نے لگتا ہے۔

ہمارے آس پا س مو جود افراد اس تبدیلی(ڈپریشن) کو نو ٹ بھی کر نا شروع کر دیتے ہیں جس کا ہمیں اندازہ تک نہیں ہو تا۔

وا ضح رہے کہ اس حالت میں مبتلا ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہم خود ہیں کیونکہ ہم ان ڈیجیٹل ٹولز کا ٹھیک استعمال نہیں کر رہے۔

یہ با ت بھی قابل ذکر ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اپنی دماغی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں، اپنے اسکرین ٹائم کو عقلمندی کے ساتھ استعمال کرنے سے ہم اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں جو کہ ممکن ہے۔

یا د رکھیں کہ سوشل میڈیا پر ایسے اکاؤنٹ کو ہرگز فالو نہ کریں جس کو دیکھنے اور پڑھنے کے بعد آپ کو اپنے اندر کوئی کمی محسوس یا احساس کمتری ہونے لگے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
105990cookie-checkسوشل میڈیا کا زائد استعمال ڈپریشن کا باعث بنتا ہے

کالم نگار/رپورٹر : زیل نیٹ ورک

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیٹ ورک چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This