ٹیگ آرکائیوز

نظم–مجھے یہ ُگرنہیں آتے 

مجھے یہ ُگر نہیں آتا کسی کے کِذبِ عیّاں کو صداقت کا گماں دے کر حق میں ناحق بیاں دے کر گویا اپنا ایماں دے کر کوٸی مفاد حاصل کروں غرض و لالچ کے تہِ دم اصولوں کو بسمل کروں مجھے یہ ُگر نہیں آتا مجھے یہ ُگر نہیں آتا کہ جو انسان کی تذلیل کو اپنا شُغل سمجھتا ہے ...

مزید پڑھئے