رمضان میں قرآن کی تلاوت افضل ہے یا اس کا حفظ کرنا؟

الحمد للہ:

قرآن مجید کی تلاوت رمضان میں افضل ترین عمل ہے؛ کیونکہ ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اس بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے:
( شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ )
ترجمہ: ماہِ رمضان  وہی مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو کہ لوگوں کیلیے رہنمائی،  ہدایت  اور حق و باطل میں تفریق کی نشانیوں[پر مشتمل ہے] ۔[البقرة:185]

نیز جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہر رات کو آ کر قرآن مجید کا دور کرتے تھے۔ اس حدیث کو بخاری: (5) اور مسلم: (4268) نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح بخاری: (4614) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : “جبریل علیہ السلام  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر سال ایک بار قرآن مجید سناتے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس سال جبریل نے دو بار قرآن مجید سنایا”

تو ان احادیث سے یہ بات کشید کی جا سکتی ہے کہ رمضان میں کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ کثرت سے سنا اور سنایا جائے۔

مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (50781) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مکمل قرآن مجید  سنانا مستحب ہے؛ کیونکہ جبریل علیہ السلام مکمل قرآن مجید آپ کو سناتے تھے۔

دیکھیں: “فتاوى شیخ ابن باز” (11/331)

جبکہ حفظ اور دہرائی میں تلاوت بھی  ہے اور محض تلاوت سے زیادہ عمل بھی ہے؛ کیونکہ حفظ یا دہرائی کرنے والا شخص ایک آیت کو بار بار لازمی طور پر پڑھتا ہے، اور اسے ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں ملیں گی۔

تو اس اعتبار سے حفظ اور دہرائی کا اہتمام کرنا زیادہ بہتر اور اولی ہو گا۔

لہذا گزشتہ احادیث مبارکہ سے جو مسائل ثابت ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:

1- یاد شدہ حصے کی دہرائی۔

2- اکٹھے بیٹھ کر قرآن مجید کا مطالعہ۔

3- قرآن مجید کی تلاوت جو کہ مذکورہ بالا دونوں کاموں کی صورت میں ہو گی۔

تو ایسی صورت میں مناسب تو یہی ہے کہ کم از کم اس ماہ میں ایک بار قرآن مجید مکمل پڑھنا چاہیے، اس کے بعد اپنی مصروفیات اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے تلاوت وغیرہ میں اضافہ کرے، مثلاً: ایک سے زیادہ بار قرآن مجید ختم کرے، یا دہرائی کرے یا قرآن مجید کا جو حصہ پہلے حفظ نہیں ہے اسے یاد کرے اور اس عمل کا انتخاب کرے جس کا دل پر زیادہ اثر ہو؛ ممکن ہے کہ اس کیلیے حفظ، یا دہرائی  یا تلاوت ان میں سے کوئی ایک چیز قلبی اصلاح کیلیے زیادہ مناسب ہو؛ کیونکہ تلاوتِ قرآن کا اصل مقصود یہی ہے کہ قرآن مجید کو سمجھیں، اثر قبول کریں اور قرآن مجید پر عمل کریں۔

مومن کو  اپنے دل کیلیے وہی کام کرنا چاہیے جس کا اسے زیادہ فائدہ ہو اور جو عمل زیادہ مفید ہو اس پر عمل پیرا رہے۔

واللہ اعلم .

Zeal Mobile Reporter

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This