نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث جس میں انہوں نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعت ادا کیا کرتے تھے ، یہ نماز تہجد یا وتر کے بارے میں ہے، تراویح کے بارے میں نہیں ہے، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

الحمد للہ:

نماز تہجد، وتر اور تراویح ان تمام  کیلیے قیام اللیل یا تراویح کا لفظ ہے، البتہ رمضان میں قیام اللیل کا خاص نام تراویح ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کے وقت نماز سے متعلق ہے اور اس میں وہ تمام نمازیں شامل ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ادا کیا کرتے تھے۔

بخاری: (3569) اور مسلم: (738) میں   ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں نماز کیسی ہوتی تھی؟ سیدہ عائشہ کہتی ہیں: “آپ رمضان اور غیر رمضان میں  گیارہ رکعات سے زیادہ نماز ادا نہیں کرتے تھے، آپ پہلے چار رکعات ادا کرتے ، ان رکعات کی لمبائی اور خوبصورتی کے بارے میں مت پوچھو! پھر چار رکعت ادا کرتے ان کی بھی لمبائی اور خوبصورتی کے بارے میں مت پوچھو!  پھر اس کے بعد تین رکعت ادا کرتے ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: “اللہ کے رسول! آپ تو وتر پڑھنے سے پہلے سو تے ہیں؟” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میری آنکھیں تو سو جاتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے)”

اس کی شرح میں امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے  بخاری میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز  سات اور نو رکعت ہوتی تھی، پھر بخاری اور مسلم دونوں نے اس حدیث کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ  رکعات  ہوتی تھی ، پھر آپ طلوع فجر کے بعد فجر کی دو سنتیں ادا کرتے تھے، جبکہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو ہلکی پھلکی رکعات ادا کیں اور پھر دو لمبی رکعات ادا کیں ، اس کے بعد انہوں نے حدیث کا بقیہ حصہ بیان کیا تو اسی حدیث  کے آخر میں ہے کہ : اس طرح یہ تیرہ رکعات ہو گئیں، قاضی رحمہ اللہ کے مطابق : علمائے کرام کہتے ہیں کہ :  ان تمام احادیث کے راویوں نے وہی کچھ بیان کیا ہے جو انہوں نے دیکھا اور مشاہدہ کیا” انتہی

ان تمام صحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے پڑھی جانے والی رات کی نماز  کی مجموعی تعداد بیان کی ہے، اور اس میں تہجد وغیرہ بھی شامل ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا کہ: “نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز  سات اور نو رکعات ہوتی تھی” اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف اوقات میں  کبھی سات پڑھتے تو کبھی نو پڑھتے تھے۔

اور سیدہ عائشہ کی بات کہ: ” آپ رمضان اور غیر رمضان میں  گیارہ رکعات سے زیادہ نماز ادا نہیں کرتے تھے ” کا مطلب یہ ہے کہ گیارہ رکعات زیادہ سے زیادہ پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ: “نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعات پڑھیں” اس کے معنی کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے دو احتمال ذکر کئے ہیں کہ: ہو سکتا ہے کہ سیدہ عائشہ نے 13 کا عدد ذکر کرتے ہوئے عشا کی سنتیں بھی شامل کر لی ہوں کیونکہ انہیں بھی رات کےوقت ہی ادا کیا جاتا ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ سیدہ عائشہ نے 13 کے عدد میں قیام اللیل سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو ہلکی پھلکی رکعات بھی شامل کر لی ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام  اللیل سے قبل ادا کیا کرتے تھے۔

پھر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:  میرے نزدیک یہ توجیہ زیادہ بہتر ہے۔۔۔” فتح الباری

اس سے معلوم ہوتا  ہے کہ سیدہ عائشہ کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی مکمل نماز  کی تعداد ذکر ہوئی ہے اور یہی مفہوم علمائے کرام نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے سمجھا ہے۔

واللہ اعلم.

Zeal Mobile Reporter

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This