روزے کے ارکان

الحمد للہ
فقھاء کرام کا اس پر متفق ہیں کہ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک روزہ توڑنے والی اشیاء سے رکنا روزے کے رکن میں شامل ہے ۔

لیکن نیت میں اختلاف پایا جاتا ہے :

احناف اورحنابلہ کے ہاں نیت روزہ کے صحیح ہونے کی شرط ہے اس کے بغیر روزہ صحیح نہیں ، لیکن مالکی اورشوافع کہتے ہیں کہ نیت روزے کے لیے رکن ہے اوراسے بھی امساک یعنی روزہ توڑنے والی اشیاء کے ساتھ ہی ملایا جائے گا ۔

نیت چاہے شرط ہویا پھر رکن دونوں حالتوں میں نیت کے بغیردوسری عبادتوں کی طرح روزہ بھی صحیح نہیں ، لیکن نیت کے ساتھ ساتھ روزہ توڑنے والی اشیاء سے بھی بچنا ضروری ہے کیونکہ روزہ کا رکن ہے ۔

دیکھیں کتاب : البحر الرائق ( 2 / 276 ) مواھب الجلیل ( 2 / 378 ) نھایۃ المحتاج ( 3 / 149 ) نیل المآرب شرح دلیل الطالب ( 1 / 274 ) ۔

واللہ اعلم .

Zeal Mobile Reporter

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This