ٹیوشن مافیا

ڈرگ مافیا ،ٹمبر مافیا اور بھتہ مافیا کے بعد ٹیوشن مافیا منظر عام پر آگیا ہے۔ سردی کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی چھوٹے بڑے  دیہات،چترال ،دروش ،بونی اور گرم چشمہ کی ہر قابل ذکر دیوار پر کسی نہ کسی ٹیوشن سنٹر کا اشتہار چسپان نظر آتا ہے ۔جن اساتذہ کرام نے دس ماہ سکول یا کالج میں طلباؤ طالبات کو کسی مضمون کی اے بی سی نہیں پڑھایا ،وہی  لوگ دو مہینوں میں سو فیصد نتائج دینے اور ملک و قوم کا نام روشن کرنے کا دعویٰ  کرتے ہیں ۔حد تو یہ ہے  کہ ایک  ایک ناکام ٹیچر کا  ناکام چار چار اشہتارات نظر آتا ہے ۔ استاد کی یہ “استاد ی ” سمجھ میں نہیں آتی کہ جو کام دس مہینوں میں وہ نہ کر سکے وہ کام دو مہینوں میں کس جادو کے زور پر وہ کرکے دکھائے گا۔

درحقیقت ہم میں سے ہر ایک کا رویہ غیر سنجیدہ ہے۔ حکومت اپنے قوانین پر عمل در آمد کرانے میں سنجیدہ نہیں ۔استاد پڑھانے میں سنجیدہ نہیں ،طالب علم پڑھنے میں سنجیدہ نہیں ،والدین اسکول انتظامیہ کے ساتھ  رابطے میں سنجیدہ نہیں ۔اس لیے سال کے دس مہینے ضائع کرنے کے بعد  دو مہینے  کے ٹیوشن کو تمام  مسئلوں کا  حل تصور کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ ٹیوشن کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ بذات خود ایک مسئلہ ہے اور اساتذہ کرام کا ایک مافیا اس مسئلے کو رو ز بروز ہوا دے رہا ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے حکومت اس مسئلے کی طرف توجہ دے۔دوسرے نمبر پہ اسکول انتظامیہ ،طلباؤطالبات اور والدین کو اس بات پر غور کرنا ہوگا  کہ جس استاد نے دس مہینوں میں ایک لفظ نہیں پڑھا یا ہے  وہ  استاد دو مہینوں  میں کیا تیر مارے گا ۔اس فریب اور دھوکے سے سب کو نجات حاصل کرنا ہوگا ۔محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کو بھی کردار ادا کرنا پڑے گا تاکہ اس نئے مافیا کا قلع قمع کیا جاسکے ۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
87270cookie-checkٹیوشن مافیا

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔
Share This