قاق لشٹ فیسٹیول ادبی و ثقافتی تنظیمات کا بائیکاٹ

روایتی قاقلشت فیسٹیول روایات کو پامال کرتے ہوئے اپنے اختتا م کو پہنچا ہے ۔ ۱۲ اپریل سے ۱۵ اپریل تک جاری رہنے والے چار روزہ فیسٹیول میں مقامی ثقافت کی جگہ غیر مقامی ثقافت کو فوقیت دی گئی ۔چترال کی چھ ادبی اور ثقافتی تنظیموں نے انتظامیہ کو بروقت آگاہ کیا اور شکایات  کا آزالہ نہ ہونے کی صورت میں فیسٹیول کا بائیکاٹ کیا  مگر انتظامیہ نے اپنی ضد جاری رکھی ۔گزشتہ ایک دہائی سے یہ روایت قائم کی گئی  ہے کہ صوبائی حکومت اگر کسی جشن یا ثقافتی سرگرمی کے لیے مالی وسائل مہیا کرتی ہے تو فنڈنگ کے ساتھ  شرط لگا تی ہے کہ اس فنڈکا فائدہ  مقامی آبادی کو نہیں ملے گا  بلکہ باہر سے آنے والے مہمان اس فنڈنگ سے استفادہ کریں گے ۔اس پالیسی کے تحت کالاش تہوار کے لیے باہر سے فنکار بلائے جاتے ہیں ۔شندور فیسٹیول کے لیے باہر سے فنکار وں کو بلایا جاتا ہے ۔ اس سال پہلی بار قاقلشٹ فیسٹیول میں غیر مقامی مہمانوں کو متعارف کرایا گیا ۔ آئندہ بروغل فیسٹیول میں غیر مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے گی ۔ اس حوالے سے انجمن ترقی ٔ کھوار، مادر ٹانگ انیشیٹو فار ایجوکیشن اینڈ ریسرچ چترال(میئر) کھوار قلم قبیلہ ،کھوار اہل قلم ،نان دوشی سکول آف ٹرڈیشنل آرٹس،سہارا اور چترال یوتھ کلب نے مل کر ثقافت و ادب کے ساتھ اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی  اور اپنا بھر پور احتجاج ریکارڈ کروایا  اور انتظامیہ کو باور کرایا کہ مقامی آبادی کی نمائندگی کے بے غیر کوئی بھی  ثقافتی پروگرام کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس موقع پر یہ افسوسناک بات بھی سامنے آگئی کہ صوبائی حکومت غیر متعلقہ لوگوں کو فنڈ مہیا کرکے اس میں سے اپنا حصہ وصول کرتی ہے ۔ چترال کی ادبی ،ثقافتی اور سماجی تنظیموں نے اپنا احتجاج ریکارڈ پر لایا ہے ۔ آئندہ اس طرح  کی نا انصافی کو برداشت نہیں کی جائے گی ۔ہمارا یہ موقف ہے کہ ضلعی سطح کی ثقافتی تقریبات میں مقامی ادب و ثقافت کو جگہ دی جائے اور مقامی ادبی و ثقافتی تنظیموں کو اعتماد میں لیا جائے ۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
65330cookie-checkقاق لشٹ فیسٹیول ادبی و ثقافتی تنظیمات کا بائیکاٹ

کالم نگار/رپورٹر : زیل اداریہ

Share This