چترال یونیورسٹی میں عالمی کانفرنس

چترال یونیورسٹی میں منعقدہ ہونے والی انٹر نیشنل بوٹانیکل کانفرنس سال ۲۰۱۸ کی پہلی سہ ماہی میں چترال کو عالمی سیاحت کے نقشے پر نمایاں کرنے والا تحفہ ہے ۔ اس تحفے کے لیے ہم چترال یونیورسٹی کی انتظامیہ ،خصوصاً پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ۔علم نباتات کے حوالے سے منعقد ہونے والی اس اہم کانفرنس کی تین نمایاں خصوصیات ہیں۔پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں یورپ اور ایشیاء کی ممتاز یونیورسٹیوں کے نامور ماہرین ِ نباتات نے شرکت کی۔دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس کانفرنس نے چترال کی نباتات کو کمپیوٹر نیٹ ورک کے ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا سے متعارف کرانے پر توجہ دی اور تیسری خصوصیت یہ ہے کہ چترال یونیورسٹی نے اپنے قیام کی سالگرہ ۳۱ مارچ ۲۰۱۸ کو ایک بین الاقوامی کانفرنس کے آخری روز فاؤنڈیشن ڈے بھی منایا۔ان خصوصیات کے ساتھ ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ کانفرنس کے شرکاء میں پاکستان کی چھ یونیورسٹیوں کے سابقہ اور موجودہ وائس چانسلروں نے شرکت کی۔علم نباتات کے حوالے سے ضلع چترال کی اہمیت کو پوری دنیا کے ماہرین نے تسلیم کیا ۔چترال میں نباتات کی چونسٹھ ایسی انواع پائی جاتی ہیں جنہیں اینڈمیک کہا جاتا ہے یہ وہ انواع ہیں جو چترال کی مٹی اور آب و ہوا کے ساتھ مخصوص ہیں ۔دنیا کے کسی اور خطے سے پہلے چترال میں ان کو اگایا گیا ۔ پرورش و پرداخت کی گئی ۔”چوپوش” نامی سیب اور “شوغوری” نام کی ناشپاتی ایسی انواع کی مثالیں ہیں ۔ چترال یونیورسٹی کی علمی کاوش اور تحقیقی کوشش سے اگر چترال کی نباتات ،نباتاتی ادویہ اور پھولوں ،پھلوں کو بین الاقوامی مارکیٹ تک پہنچایا گیا اور طبی نباتات کو حقیقی معنوں میں دریافت کرکے ان پر مزید تحقیق کی راہ ہموار کی گئی تو یہ بہت بڑا کام ہوگا۔ اس کام کے ذریعے علم و تحقیق کی ابیاری کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی سدھارنے کے مواقع ہاتھ آئیں گے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
63160cookie-checkچترال یونیورسٹی میں عالمی کانفرنس

کالم نگار/رپورٹر : ایڈیٹوریل بورڈ

Share This