کیا کتابیں واقعی زندگی بدل دیتی ہیں؟

الکیمسٹ
سچ کہتے ہیں کہ دنیا گول ہے کیونکہ زندگی کے کسی بھی مرحلے میں ہماری ملاقات کسی سے بھی ہوسکتی ہے اور ہوتی بھی ہے۔ہم ہر روز مختلف قسم کے لوگوں سے ملتے ہیں کہ جن میں سے بعض کے ساتھ ہمارا دل کرتا ہے زیادہ وقت گزارے،بعض علم کی دولت پھیلاتے ہیں،کچھ ہمت و حوصلے کی باتیں کرتے ہیں اور ضروری نہیں کہ جو بھی ہماری زندگی میں آئے وہ ہمیشہ مثبت کردار ہی ادا کرے ، بعض کے ہمارے اوپر منفی اثرات بھی ہوتے ہیں۔غرضیکہ جس سے بھی ہم ملتے ہیں چاہے اچھا ہو یا برا ہمیں سیکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ملتا ہے۔
سال ۲۰۱۵میں میری ملاقات ایک الگ میڈیم کے ذریعے برازیل کے ایک مشہور ناولسٹ Paulo Coelho سے ہوئی اور یہ ملاقات الکیمسٹ کے ذریعے تھی۔ اس مشہور ناولسٹ نے جب اپنی ماں سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ایک رائٹر بننا چاہتا ہے تو اس کی ماں نے کہا کہ’’ تمھارا باپ ایک انجئینر ہے اور اس دنیا کی حالت کو اچھی طرح سے جانتا ہے تو کیا تم واقعی میں ایک رائٹر ہونے کا مطلب جانتے ہو؟‘‘
۱۷سال کی عمر میں پائلو نے ثقافتی رسوم و رواج کی پیروی سے جب انکار کیا تواس کے والدین نے اسے ایک mental institution میں داخل کروا دیا کہ جہاں سے وہ وقت سے پہلے ہی بھاگ گیا۔والدین کی خواہش پر لاء سکول میں داخلہ لے لیا مگر جلد ہی وہاں سے بھی ڈراپ آوٹ ہو گیا،چونکہ اس کی خواہش ہی یہی تھی کہ وہ ایک رائٹر بنے اور اس کو جنون کی حد تک اس سے لگاؤ تھا اس لیے کھبی اپنی خواہش کو پیچہے ہٹنے نہیں دیا۔اور لکھنا شروع کر دیا ان کی مشہور کتابوں میںThe Pilgrimage،The Alchemist ، Maktub، The Fifth Mountain، Life،The Zahir وغیرہ شامل ہیں۔
ان کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب Alchemistہے کہ جس کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں مشہور ہو گئے اور انھوں نے یہ کتاب ۱۹۸۸ء میں لکھی اور صرف دو ہفتہ میں اس ناول کو تکمیل تک پہنچایا۔اس کتاب کی سب سے پہلی اشاعت برازیل ہی کی ایک لوکل پبلشر نے کی اور۹۰۰کاپیاں کی، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مجہے نہیں لگتا کہ اس کتاب کی اس سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو سکتی ہے۔لیکن جب اس ناول کا انگریزی میں ترجمہ ہوا تو اس نے بہت کامیابی حاصل کی،اب تک یہ ۸۰زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہے اور ۶۵ملین اس کی کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔بنیادی طور یہ ایک لڑکا Santiagoکی کہانی ہے کہ جو اپنے خواب کے پیچہے نکل پڑتا ہے ۔یوں تو اس ناول میں بہت سے واقعات ایسے ہیں کہ جو انسان کو متاثر کرتے ہیں مگر ایک واقعہ کہ جو سب سے زیادہ مشہور ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص مرکزی کردار کو بتاتا ہے کہ ایک دفعہ جب میں سردار کے قلعے میں گیا تو اس نے مجہے ایک کام سونپا کہ تم اپنے ہاتھ میں یہ چمچ لے لو اور پورا قلعہ دیکھ کر آؤ اور مجہے بتاؤ کہ تم نے کیا دیکھا لیکن اس بات کو ذہن میں رکھنا کہ چمچ میں موجود تیل نہیں گرنا چاہیے،جب وہ شخص واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ محل تو اس نے سارا دیکھ لیا ہے مگر چمچ میں موجود تیل راستے میں گرا کے آگیا ہے،اس لیے وہ دوسری مرتبہ پھر سے چمچ میں تیل ڈال کے جاتا ہے اور اس دفعہ اس کا سارا دھیان تیل کی طرف ہوتا ہے اور وہ قلعے کی طرف توجہ نہیں دے پاتا۔اس قصہ کے ذریعے سے مصنف ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہم کس طرح سے توازن برقرار رکھ سکتے ہیں یعنی یہ کہ اصل خوشی اس بات میں ہے کہ ہم اس دنیا کی رونق کو بھی دیکہے اور آخرت کی تیل کو بھی گرنے نہ دے،یعنی کہ ہمیں اس دنیا کی رونقوں میں اتنا بھی نہیں کھونا چاہیے کہ آنے والی ابدی زندگی کو بھول جائے اور نہ ہی ہمیں آخروی زندگی کے لیے مادی دنیا کو چھوڑ دینا چاہیئے ۔
اس کے علاوہ اس میں بہت سے ’ون لائنز ‘بھی موجود ہیں۔ون لائنز سے مرادوہ فقرے ہیں جو آگے چل کر ضرب المثل  یا محاورے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں،مثال کے طور پر:
“And,when you want something,all the universe conspires in helping you to achieve it”
“There is only one thing that makes a dream impossible to achieve :the fear of failure”
“The secret of life,though,is to fall seven times and to get up eight times”
“If someone isn’t what others want them to be,the others become angry. Everyone seems to have a clear idea of how other people should lead their lives,but none about his or her own”
ان ساری باتوں سے صرف ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ اگر ہم کسی چیز کا ارادہ کریں چاہے وہ ہمارے لیے کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو وہ کام اﷲ پاک کے لیے کھبی بھی مشکل اورہماری سوچ اس پاک ذات کی حدوں کو چھو نہیں سکتی ۔اس لیے اگر ہم اﷲکے ذات کے اوپر پورا یقین اور اعتماد رکھ کر کسی کام کا آغاز کرئے تو اس کام میں ہمارے لیے کوئی مشکل باقی نہیں رہتی۔یہ ناول بس انہیں باتوں کے اردگرد گھومتی  ہے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
76990cookie-checkکیا کتابیں واقعی زندگی بدل دیتی ہیں؟
Zeal Mobile Reporter

کالم نگار/رپورٹر : زاہدہ نور

Share This