”پیپلز پارٹی کا احتساب “

ہم نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی تب سے سیاسی افق پر کوئی ایسا سورج نمودار ہوتا نہیں دیکھا جو اپنے جلو میں اس قوم پر آزمائش لے کر طلوع نہ ہوا ہو۔

گزشتہ چند عرصہ سے ہمارے ملکی منظرنامے پر احتسابی نعرے اور احتسابی سیاست کا غلغلہ کچھ اس آہنگ سے بلند کیاگیا کہ اعلیٰ عدلیہ اور نیب کا ادارہ عوام کا مرکزنگاہ بن گئے۔اس پہ نہیں جاتے کہ احتساب کے اس عمل میں کچھ کو زیادہ کیوں کَسا جارہا اور کچھ کو مسند اقتدارکیوں عطا کیا گیا۔اگرچہ تواتر سے احتساب کی شفافیت کایقین دلایا جارہا مگر حالیہ چند فیصلوں نے اس احستابی عمل کو گہنا ضرور دیا ہے۔میں”متنازعہ“کہنے سے دانستہ گریز کر رہا ہوں۔اگرچہ بعض کا ماننا ہے کہ یہ”طویلے کی بلا بندر کے سر“والا معاملہ ہے۔اور خاص کر پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ سے تعلق رکھنے والے کرپٹ عناصر کو جس طرح محفوظ راستے دئیے جا رہے ہیں اس سے سیلیکٹڈ اکاؤنٹوبیلٹی کا تاثر مضبوط ہوتا جا رہا۔

سچ تو یہ ہے کہ پانامہ کیس ملکی سیاسی تالاب میں ایک بڑے ارتعاش کا سبب بنا اس کیس نے احتساب کے لیے بھرپور ماحول مہیا کیاجس کی نظیر ہمیں آئے روز سیاسی اور سماجی افق پر دیکھنے کو مل رہی ہیں۔حتی کہ اس کیس نے ملکی سیاست کا رخ بھی مکمل طور پر بدل کر رکھ دیاہے۔کل تک جن لوگوں کی جنبش ابرو بھی قانون کا درجہ رکھتے تھے آج وہ قانون کی”جُنبش“کی زد میں ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی ہماری ملکی سیاست میں خوبیوں اور خامیوں کی حامل واحد پارٹی ہے جو قوم کی بھی مجبوری رہی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی بھی۔یہ واحد پارٹی ہے جو ان دو طبقوں کے لیے اپنے اندر بہت سے پُرکشش پیکجز لیے ہوئی ہے۔اس کی جمہوریت کے لیے قربانیوں سے انکار نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کرپشن کی ہوشربا داستانوں کو بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔موجودہ احتسابی عمل میں یہ قلق رہا کہ پی پی پی کے حوالے سے کیونکر خصوصی رعایت برتی جارہی ہے۔اور اس کے پیچھے کیا محرکات ہوسکتے ہیں۔۔اس کا اندازہ ہمیں سینٹ انتخابات سے ہوا۔پی پی پی اچھی خاصی استعمال ہوئی۔ان کی شومئی قسمت کہ پیپلزپارٹی کی شہ رگ پر یہ تلوار آخرکار رکھ دی گئی۔

پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت اور اس پارٹی کےلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا ملک ریاض کے حوالے سے جےآئی ٹی نے اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں جو ہوشربا انکشافات سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہیں۔ان کی مندرجات سے ایسا لگ رہا ہے کہ اب پی پی پی کی سیاسی موت کی آخری رسم ہونا باقی ہے۔باقی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔البتہ یہ کہ اداروں کو قوم کے ”عظیم تر مفاد“کا دورہ نہ پڑے۔

پی پی پی پر بننےوالی جےآئی ٹی رپورٹ پانامہ سے کہیں بڑھ کر شدید اور خطرناک ہے۔اب احتسابی عمل کے نقشہ گروں کو نواز شریف اینڈ کمپنی  زرداری اینڈ کمپنی کے آگے”طفل مکتب“دیکھائی دینےلگے ہیں۔پانامہ کیس میں بہت سے ابہامات موجود تھے۔جس کا نوازشریف اور اس کے خاندان والوں نےبھرپور فائدہ اٹھایا۔پانامہ کیس میں عدالت اور احتسابی اداروں نے بال نواز شریف اینڈ کمپنی کی کورٹ میں پھینکا تھا۔کہ اس پر لگنےوالے الزامات میں اگر کوئی جھول یا سقم ہے تو اس کو خود نوازشریف نے دور کرنا ہوگا۔وہ کرپائے یا نہیں اب فیصلہ ہوچکا ہے۔

مگر پی پی پی کی مرکزی قیادت کے حوالے سے رپورٹ اتنی واضح ہے کہ احتسابی اداروں کو مزید تحقیق کی کشٹ اٹھانے کی نوبت نہیں آئے گی۔کیونکہ اس میں ہر راستہ اور ہر طریقہ واردات اس قدر واضح ہے کہ اس کے لیے کسی کو 180 مرتبہ عدالت بلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔زرداری صاحب کو جو کھٹی ڈکاریں آنے لگی ہیں وہ بلاوجہ بھی نہیں۔

بینک سے لیکر اشخاص تک اور رقم کی حُجم تک تمام اعداد و شمار بہم پہنچائے گئے ہیں۔نیشنل بینک،اسٹیٹ بینک،سمٹ بینک کا اس کرپشن میں کیا کردار رہا تمام میزانیہ سامنے رکھ دیا گیا ہے۔۔کس نے پی پی پی کی سیاست اور قیادت پر کتنا انوسٹ کیا اور اس سے کیا کمایا یہ سب بھی اظہرمن الشمس کردیا گیا ہے۔

البتہ ہماری سیاست پر منڈلاتے خدشات اور احتسابی عمل کی جو معروف بدچلنی رہی ہے اس کی کوکھ سے ہمیشہ شر ہی نے جنم لیا ہے۔خیر کم ہی برآمد ہوا۔کیا پتہ یہاں بھی قوم کا عظیم تر مفاد اپنا چال چل جائے۔اس وقت یہ عدلیہ اور نیب کے لیے بہت بڑا امتحان ہے اور ہمارے ملکی نظام کے لیے بھی کہ وہ اب اپنے لیے کونسے سمت کا تعین کرتا ہے۔

اس معاملہ کا سب سے اہم اور حساس ترین پہلو تحریک انصاف کا اس سارے عمل کو سیاست زدہ بنانے کا ہے۔اس سارے عمل میں حکومتی کارندے جس بےجا متحرک ہونے کا ناٹک رچا رہے ہیں۔وہ سیاسی حریفوں کو فوائد اٹھانے کا سبب بن رہا ہے۔اور پی پی پی اس کو اس رُخ پر لیجانے کی خود بھی متمنی ہے۔ایک طرح سے یہ پی پی پی کی خوش قسمتی بھی ہے کہ اس کو ایسے سیاسی حریف ملے ہیں ۔جو”حکمت“اور”دانش مندی“ سے عاری ہیں۔دیکھتے ہیں یہ جےآئی ٹی زرداری صاحب کی سیاست کے لیے آخری ہچکی ثابت ہوتی ہے یا وہ خود کو اس گرداب سے نکال پائیں گے۔۔

پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
89460cookie-check”پیپلز پارٹی کا احتساب “
Zeal Mobile Reporter

کالم نگار/رپورٹر : ظفر اللہ

Share This