عقل بیمایہ امامت کی سزاوار نہیں

آپ گوگل میں جاکے تلاش خانے میں Hebrew University لکھیں تو آپ کے سامنے اس کی پوری پروفائل کھل جائے گی۔عربی میں اس کا متبادل نام جامعہ عبرانیہ ہے۔دنیا یروشلم کو دو حوالوں سے پہچانتی ہے ایک بیت المقدس کی وجہ سے اور دوسرا بڑا حوالہ یہی جامعہ عبرانیہ ہی ہے۔اسے اسرائیل کی پہلی یونیورسٹی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔اس کی انفرادیت یہ ہے کہ اسرائیل کے قیام سے قبل یعنی 1918ء میں یہ یونیورسٹی بنائی گئی تھی۔اس یونیورسٹی نے اپنے تعلیمی سفر کا باقاعدہ آغاز 1925ء میں کیا۔آج بھی یہ دنیا کی صف اوّل کی یونیورسٹیز میں شمار ہوتی ہے۔اس یونیورسٹی کے بانیوں میں مشہور سائنسدان البرٹ آئن سٹائن کا نام بھی لیاجاتاہے۔اس یونیورسٹی کا خاکہ اس کے زرخیز ذہن نے ہی تیار کیا تھا۔چنانچہ یہ دنیا کی ان گنے چْنے یونیورسٹیز میں شمار ہوتی ہے جنھوں نے دنیا کو علمی لحاظ سے بہت کچھ عطا کیاہے۔یہ واحد یونیورسٹی ہے جو آٹھ(8)مرتبہ نوبیل انعام کے تمغے سینے پہ سجا رکھی ہے۔آج بھی یہ یونیورسٹی اسرائیل کو علمی لحاظ سے مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی طرف گامزن ہے۔ اس یونیورسٹی نے شروع ہی سے اپنے اغراض و مقاصد میں یہودی،ان کی تہذیب و تمدن،ان کی روحانی،اور علمی روایت کو بچانے،ترقی دینے کے ساتھ ساتھ ان کی عبرانی زبان کے فروغ و اشاعت کوسرفہرست رکھی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس یونیورسٹی نے اس زبان کو زندہ کیا،جسے پڑھنے،لکھنے،بولنے اور سمجھنے والا ایک فرد بھی دنیا میں نہیں رہاتھا۔نہ صرف زندہ کیا بلکہ اسرائیل کی متحرک اور فعال سرکاری زبان بنا دیا۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہودیوں کی بازیافت،اور پھر ان کی نشاتہ ثانیہ میں اس یونیورسٹی کا کردار یہودیوں کی تاریخ میں سنہرے باب سے یاد رکھا جائے گا۔ مسلم امّہ کا تعلیمی حال اور اس میدان میں ان کی دلچسپی کاحال اتنا پَتلا ہے۔کہ اس پرلکھتے ہوئے بھی کوفت ہوتی ہے اور نہ ہمیں جامعہ عبرانیہ طرز کی یونیورسٹیز بنتی نظر آرہی ہیں۔مقامی سطح کو دیکھا جائے تو پاکستانی قوم کی نابینا پن ہم ان ستر سالوں میں دور کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔پاکستان بننے سے پہلے یہاں دیدہ وروں کی کھیپ کی کھیپ موجود تھی۔مگر ان سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔بلکہ ہمارے ابتدائی قومی قیادت سے اس معاملہ میں اتنی بڑی کوتاہی ہوئی ہے۔کہ ہم آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔بجائے یہ کہ ملک کو ایک ہی طرز اور اعلی ٰپائے کا نظام تعلیم اور نصاب تعلیم دیا جاتا۔وہ قوم کے ساتھ”کونسا اسلام”کس کا اسلام” جیسے سانپ سیڑھی والا کھیل کھیلنے لگے۔اور قوم کو دانستہ تعلیم کے حوالے سے ایسی کھائی میں پھینکا گیا۔جس سے ہم آج تک نہیں نکل پائے ہیں۔ پاکستان میں حکومتی اور نجی یونیورسٹیز گنتی سے باہر ہیں اور آئے روز اس میں اضافہ ہوتا جارہاہے مگر میرا ذاتی تجربہ یہ بتاتاہے کہ ہماری یونیورسٹیز محض”طلبہ”کی پیداواری تک محدود ہیں۔وہاں آپ کو سب کچھ ملے گا سوائے علم کے۔یہ یونیورسٹیز ہماری تہذیبی روایت اور علمی روایت کو نگلنے میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کی پوری کوشش کررہی ہیں۔زبان کی ترویج اور اشاعت خود ان شعبہ جات میں بھی مفقود ہے جو خاص الخاص اس مقصد کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔یہاں علم کا دریا موجزن ہونے کی بجائے فحاشی کا سیل بد امڈتا جارہاہے۔ہماری یونیورسٹیز تحقیق کے میدان میں آج تک اگر کوئی روایت پروان چڑھانے میں کامیاب رہی ہیں تو وہ صرف”سرقہ اور چربہ”کے نام پر روسیاہی کمانا ہے۔اس قوم نے کیا بننا تھی اور کیا بن کر رہ گئی ہے۔ ایسی موضوعات پر جب بھی بات کی جاتی ہے تو یار دوستوں کا ناریل چٹخ جاتاہے اور وہ اس تلخ حقیقت کا سامنا کیے بغیر سب اچھاہے پر اکتفا کیے بیٹھ جاتے ہیں۔اس تعلیمی بدہضمی کا کوئی مجرب نسخہ سوجھنے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ہمارے لیڈروں نے اپنا سر “لعنت”میں پھانسا رکھے ہیں۔موجودہ تو کسی حساب میں نہیں اور مستقبل کی قیادت کا جو ہیولہ سامنے آرہا ہے۔وہ اس سے بھی بدتر نظر آرہاہے۔سیاست سے ہٹ کر تعلیم کے معاملے میں جو کوتاہی ان سے ہوئی ہے اس پر بھی اگر یہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں تو مناسب ہوگا۔ موجودہ اسرائیل کاکل رقبہ پنجاب کے پسماندہ ضلع راجن پور کے برابر بتایا جاتاہے۔یعنی12365 مربع کلومیٹر کے لگ بھگ۔سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ اگر پاکستان کے 55 برابر حصے کیے جائیں۔تو اسرائیل کی جسامت پاکستان کا پچپن واں حصہ ہے۔عالم اسلام کے سامنے اسرائیل کی حیثیت ہاتھی کے مقابل مکھی کی سی ہے۔آنے والا دور ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گا۔ہماری نسلوں کو ہم سے نفرت کیلیے یہی تاریخ کافی ہوگی۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
57220cookie-checkعقل بیمایہ امامت کی سزاوار نہیں

کالم نگار/رپورٹر : ظفراللہ

Share This