Supreme Court Dam Initiative

اعتراض ہے!

وقار احمد کو مار دیا گیا۔ صرف وقار احمد کو نہیں اس کی بیوی اور پیدا ہونے کی جستجو کے آخری مراحل میں داخل اس کے بیٹے کوبھی۔ قصور کیا تھا؟ حق حلال کا نکاح۔ نہ مسلک کا ایشو، نہ مذہب کا۔ صرف انا کا مسئلہ۔ اور انا کے لئے اپنے ہی بچے پیسے دے کر قتل کرانا کہاں کی انسانیت۔ شہنشاہکسی بھی غلط سرگرمی کا حصہ رہا ہوگا کوئی بھی کاروبار کرتا ہوگا، مگر اس بات سے ہر انسان نما جانور کو بھی دلچسپی ہوگی کہ وہ کسی گھر کا چشم و چراغ تھا۔ کسی مائی کے گڈری کا لال، کسی کے ڈوبتے ابھرتے ہوئے آرمانوں کا آخری سہارا۔ اس کی موت کے ساتھ پتہ نہیں کتنے ٹمٹماتے ہوئے چراغ بجھ گئے۔
سوال یہ بھی بنتا ہے کہ کیا اس کی موت کا کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا یا وہی چار افراد جو گرفتار اور پابند سلاسل ہیں، وہی اس کے قاتل ہیں۔ وہ افراد چند دن، چند مہینے یا پھر چند سال بعد جیل سے باہر آئیں گے۔ جیسے سارے ہی مجرم آتے ہیں۔ اس ملک میں نواز شریف جیسے لوگ اندر بھی جاتے ہیں اور باہر بھی آتے ہیں ملک کے سب سے طاقتور ترین شخص کو ضرورت کے وقت مجرم ثابت کردیا جاتا ہے۔ایک ایسا شخص جس کے کیس کی پیروی کے لئے وکلاء کی ایک فوج موجود ہے۔ ایسا شخص جو وکیل کرنے کے بجائے جج کیا کرتے ہیں بوقت ضرورت ان کو بھی مجرم ثابت کیا جاتا ہے تو وقار احمد کی ماں مجرموں کو کس طرح سزا دلوا سکتی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں راتوں رات اوپر سے لے کر نیچے تک سب کچھ بک جاتا ہو۔ شرط صرف قیمت لگانے کی ہے۔ مگر وقار احمد کی ماں جس کے گھر میں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں وہ کسی کی کیا قیمت لگا سکتی ہے۔ وقار احمد کی ماں کے پاس اپنے بچے کے خون آلود کپڑوں سے لپٹ کر آہیں بھرنے کے علاوہ کچھ اور بھی ہے کرنے کو؟۔

خیر یہاں وقار احمد کا ذگر ایسے ہی آگیا۔ اصل سوال لواری ٹنل کے دو اطراف مسافروں کو بے جا طور گھنٹوں روکنے کا تھا۔ یقینا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس اس کا کوئی موزون جواب موجود ہوگا کہ چترالی مسافروں کو مسلسل لواری ٹنل پر روک کر کیوں اذیت کا شکار کیا جارہا ہے۔ اگر وجہ دھواں کا جمع ہونا ہے تو انسانی عقل یہ کیسے تسلیم کرسکتی ہے کہ اتنی ساری گاڑیاں ایک ساتھ چھوڑنے سے کم دھوان اور ہر بیس منٹ بعد وہاں پہنچنے والی ایک ایک گاڑی چھوڑنے سے زیادہ دھواں جمع ہو۔ اگر ٹنل کے گرنے کا خدشہ ہے تو ایک ایک کرکے چھوڑنے کی صورت میں نقصان بجائے 200 گاڑیاں ایک ساتھ چھوڑنے سے کم ہی ہوگا ٹنل گر بھی گیا تو دو چار گاڑیوں پر گرے گی دو سو پر نہیں۔ اگر مریضوں، لاشوں اور تندرست انسانوں کو وہاں روکنے سے انتظامیہ کو کوئی فائدہ ہورہا ہے تو اس کا بھی برملا اظہار کیا جائے تاکہ ہم خوش تو ہوسکیں کہ ہمارے یہاں رکنے سے ملک کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اگر ٹنل کے دونوں اطراف موجود ڈرائی فروٹ اور انڈے بیچنے والے آپ کے لئے چترال کی چار لاکھ کی آبادی سے زیادہ اہم اور زیادہ معزز ہیں تو بھی ہم آپ سے اتفاق کریں گے۔بس اب ہم اس درد سے خلاصی چاہتے ہیں اس لاعلمی سے نجات چاہتے ہیں جس کی وجہ سے آپ ہمیں مسلسل وہاں روک کر تذلیل کا نشانہ بنا رہے ہیں۔وجہ کوئی بھی ہو بس اب بتا بھی دیں تاکہ ہم اپنی تذلیل کی وجہ سے باخبر ہو کر سکون سے جی سکیں۔
گھنٹوں کی تذلیل کے بعد کئی قیامت کے مناظر کا سامنا اس وقت کرنا پڑتا ہے جب ٹنل کراس کرکے آپ چترال سائیڈ پر پہنچ جاتے ہیں۔ ہر نکڑ پر آپ کو روک کر پوچھا جاتا ہے کہ ”کہاں جارہے ہیں“ اس سوال پر ہمیشہ بے بسی کا احساس ہوتا رہا ہے مگر وقار احمد کی قتل کے بعد وہ احساس ایک دم سے کہیں غائب ہوگیا ہے۔ اب ہم اس بات پر ایمان لانے لگے ہیں کہ گاڑیاں روک کر پوچھنے والے واقعی اس بات سے لاعلم ہیں کہ یہ راستہ صرف چترال جاتا ہے اگر یہ راستہ کسی یو ٹرن کے بعد دیر چلا جاتا اور کسی دیر یا پشاور والے وقار احمد کی جان کو خطرہ ہوتا تو ہمارے اپنے کبھی ایسی گاڑی یا ایسے شخص کو اس مقام سے آگے جانے نہیں دیتے ورنہ دیر والوں کا تو پتہ ہے نا وہ موت کا بدلہ کیسا لیتے ہیں چاہئے اس میں قانون نافذ کرنے والے افراد ہی کیوں نہ ملوث ہوں وہ کسی کو نہیں بخشتے۔ وہ چترال والے تھوڑی ہیں کہ دوسرے اضلاع سے لوگ آکر ان کے بچے مار کر آرام سے چلے جائیں

سب سے مضحکہ خیز بات وہ لگتی ہے جب آپ کسی غیر ملکی سیاح سے لواری ٹنل پر پوچھ لیں کہ کہاں جارہے ہیں۔ وہ پلٹ کر سوال کرے اس راستے سے چترال کے علاوہ کہیں اور بھی جاسکتے ہیں تو آپ کا جواب کیا ہوگا۔کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ اس سوال کے جواب میں ایران جانے کا بول کے دیکھ لیں پوچھنے والو ں کا رویہ۔ تھوڑی دیر کے لئے سوچیں کبھی وقار احمد کے والد لواری ٹنل کے راستے پر سفر کرے اور واپسی پر ان کی گاڑی روک کر ان سے پوچھا جائے کہ کہاں جارہے ہیں۔ تو خیالات کا ایک طوفان ذہن کے ہر کونے سے امڈ آئے گا۔ وہ محافظوں کے چہروں پر وقار احمد کو قتل گاہ کی طرف لے جانے والوں کا شبیہ ڈھونڈتا رہ جائے گا۔ یہ خیال ضرور آئے گا کہ ان کے بیٹے کو قتل کرنے والے افراد سے بھی اسی جگہ یہی سوال پوچھا گیا ہوگا اور انگلی کے اشارے سے جانے کی اجازت دی گئی ہوگی۔یہی اجازت ان کے لئے چترال کے ایک بیٹے کو قتل کرنے کا پرمٹ بن گیا ہوگا۔ مگر پھر مگر! …………ذمہ داری کیا قاتل پکڑنا ہے یا قتل ہونے سے بچانا۔ اسی ایک جملے میں ہر چترالی کا ”اعتراض“ موجود ہے

Zeal Policy

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
107920cookie-checkاعتراض ہے!

کالم نگار/رپورٹر : شمس تاجک

Share This