دہی، دماغ اور چترالی اڈہ

کھوار زبان کا ایک محاورہ ہے کہ ’’ جب تک بچہ روئے گا نہیں ماں بھی بچے کو دودھ نہیں پلاتی‘‘۔ اس میں چارچیزیں قابل غور ہیں۔ بچہ، رونا، ماں اور دودھ۔آج ان چار الفاظ کو لے کر اپنے عزیزہم وطنوں کے لئے ’’دماغ کی دہی‘‘ بنائیں گے۔ تو لئے جئے جناب! ترکیب حاضر ہے۔یاد رہے کہ اس ترکیب سے بنائی گئی دہی صرف چترالیوں کے لئے ہے باقی ملک کے لوگ اس ترکیب سے استفادہ کرکے بدہضمی کا شکار ہوجائیں تو ہم ذمہ دار نہیں۔
اجزا میں پہلا نمبر بچے کا ہے۔ آپ ایک بچہ لیں۔بچے کو ہلا جلا کر اچھی طرح سے چیک کرلیں ۔اگر ذرہ سا بھی ہلنے جلنے کے اثرات آپ کو نظر آئیں تو ایسے بچے کو اس ترکیب میں استعمال کرنے سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔ اس ترکیب کے لئے ایک ایسا بچہ چاہئے جو مکمل طور پر مفلوج ہو۔ بچے کا جسم باقاعدہ گوشت کا لوتھڑہ ہونا چاہئے ۔ دماغی صلاحیت صفر ہونا از بس ضروری ہے۔ ہاتھ پیر چلانے کی صلاحیت سے مکمل محروم بچہ اس دہی کے ذائقے میں اضافے کا سبب بنے گا۔ ہر بنیادی انسانی صلاحیت سے محرومی دہی کی لذت کو دوبالا کرے گا۔
عمومی طور پر رونے کا جز ایسے بچے میں جو ہر صلاحیت سے محروم ہو خود بخود کم ہوجاتا ہے۔ پھر بھی قدرت کا اصول ہے کہ وہ انسان کو تمام صلاحیتوں سے محروم کرنے کے بعد بھی رونے کی صلاحیت سے کبھی محروم نہیں کرتا جو مجوزہ ’’دماغ کی دہی‘‘ آپ بنانے والے ہیں اس میں رونا جتنا کم شامل کریں اتنا ہی یہ صحت بخش اور میٹھا ہوگا۔چونکہ ’’دماغ کی دہی‘‘ تیار ہونے کے بعد آپ کو نہیں کھانا اس لئے اس کے اجزا، میٹھاس اور صحت پر اثرات سے آپ اگر عام آدمی ہیں، محفوظ رہیں گے۔ رونا جتنی ممکن ہو اتنا کم رکھنے کی کوشش کریں۔ ایسا نہ ہو کہ رونے کے جز کی زیادہ آمیزش اور چیخ و پکار سے آپ کی ’’دماغ کی دہی‘‘ وقت سے پہلے خراب ہوجائے۔کئی ممالک کے باسی اس ترکیب میں رونے کے جز کے زیادہ استعمال کے بعد اب انسان بن گئے ہیں ان کی مائیں ان کے ساتھ بالکل انسانوں جیسا رویہ اپنانے لگے ہیں جو کہ ہمارے لئے جاں لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ اس لئے کوشش کریں ۔ کہ رونا نہ ہونے کے برابر شامل ہو۔ اب آتے ہیں تیسرے جز کی طرف۔
ایک ماں ہوتی ہے اور ایک سوتیلی ماں! ہیں دونوں خاتون مگر زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے دونوں میں ،دماغ کی دہی بنانے کے لئے ماں کا سوتیلا ہونا بہت اہم ہے۔ بلکہ کوشش کریں کہ ایسی سوتیلی ماں ہو جسے انسانیت چھو کر بھی نہیں گزری ہو۔ آپ ان کے سامنے تڑپ تڑپ کر مرجائیں وہ پانی کے ایک بوند سے آپ کی جان بچانے کے بجائے آپ کی تڑپ سے کھل اٹھے۔ ایسی ماں جس کو اپنی سگی اولاد سے بھی زیادہ ذاتی مفاد عزیز ہو۔ وہ دماغ کی دہی کو چارچاند لگائے گی۔ایسی ماں کے انتخاب کے بعد ان کو ایک ایسی کرسی پر براجماں کریں جہاں سے وہ اگلے مرحلے کا نظارہ کرسکے اور لطف اٹھا سکے۔ جب سوتیلی ماں کرسی نظارہ پر براجماں ہوجائے تو بچے کو پکڑ ان کے سامنے سوئیاں چبھونا شروع کریں۔ یا درہے کہ آپ بچے کو جتنی زیادہ اذیت دیں گے ماں کے سامنے۔ ذائقہ اتنابہتر ہوتا جائے گا۔ آپ بچے کے جسمانی اعضا الگ الگ کرکے بھی یہ ترکیب آزما سکتے ہیں اس سے چار سو خوشبو پھیل جائے گی۔ آپ کی کاریگری کی پورے علاقے میں تعریف ہوگی۔اسی دوراں آپ کسی بچے کو بازار سے دودھ لانے کے بھجیں۔ دودھ بچے کو اذیت دینا شروع کرنے کیبعد جب اذیت ان کے لئے ناقابل برداشت بن جائے تب منگوائیں تاکہ جب آپ بچے کو دودھ پلائیں تو اس کو احساس ہو کہ آپ کتنے سخی ہیں۔ یاد رہے کہ اس ترکیب میں دودھ صرف بچے کو زندہ رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بچہ زندہ نہیں رہے گا تو اور بچے کہاں سے آئیں گے اور آپ کوووٹ کون دے گا۔ مگر دودھ کی مقدار آپ اتنی ہی رکھیں گے جس سے بچہ مرنے سے بچ جائے۔ ایمانداری سے خریدی گئی دودھ بھی ’’دماغ کی دہی ‘‘ کے لئے مناسب نہیں ہے، ایمانداری سے خریدی گئی دودھ ذائقے کے ساتھ ساتھ دماغ کی دہی کے تاثیر میں بھی فرق لاتا ہے اس لئے دودھ والے سے کمیشن پہلے ہی طے کرلیں تاکہ آپ کو ذائقے، خوبصورتی اور تاثیر کے لئے کمپرومائز نہیں کرنا پڑے۔
ان چار اجزا کی شمولیت کے بعد جو کچھ بن جائے اس کے چارکونے بنائیں ایک میں سدا کے زندہ، دوسرے میں ایٹم بم، تیسرے میں تبدیلی اور چوتھے میں مذہب، قومیت، علاقیت، انسانیت سے نفرت، ذاتی مفاد وغیرہ وغیرہ کے مغلوبے سے بنا پیسٹ رکھوا دیں۔ پھر کھانے کے بجائے اس کو پیٹنا شروع کریں۔ ہر کونے سے الگ الگ آواز آئے گی۔ان آوازوں میں اصل بات کے لئے رونا سب بھول جائیں گے۔ اس ترکیب سے بنائی گئی خوراک یا بے وقوفی کو اردو میں دماغ کی دہی بنانا کہتے ہیں۔ آئی بات سمجھ میں؟
مہذب معاشروں میں رہنے والے انسان اس ترکیب کو کچھ یوں بھی ترتیب دیتے ہیں کہ بچے کو آپ عوام سمجھیں، رونے کو احتجاج، ماں کو ریاست سمجھ سکتے ہیں، دودھ کو بنیادی حق ۔ اس بحث کو مزید کھولیں تو کچھ یوں جملہ بن سکتا ہے کہ ’’ جب تک عوام اپنے حق کے لئے احتجاج نہیں کریں گے یا احتجاج کرنے اور اڈے چلانے میں فرق کی تمیز کرنے والے افراد کا چناؤ نہیں کریں گے تب تک کوئی آپ کو آپ کا حق نہیں دے گا۔ اگر ٹائم ہے تو اس بحث کو مزید سادہ جملوں میں یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ’’جانور اور انسان میں فرق یہی ہوتا ہے کہ جانور لائن میں ذبح ہونے کے لئے کھڑے کئے جاتے ہیں احساس کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں مگر انسان اور وہ بھی اسلامی اور تہذیب یافتہ معاشرے کے رہائشی اپنی بہو بیٹیوں کو رات کے اندھیروں میں غیروں کی گلیوں میں لاوارثوں کی طرح نہیں گھومایا کرتے۔ ایسے لوگوں کے لئے جس لفظ کا استعمال کیا جاتا ہے وہ ضبط تحریر میں لانے کے قابل نہیں۔
لو بات کرنی تھی چترال کے اڈے کے لئے،میں دہی بنانے بیٹھ گیا ۔ اڈے کے بارے میں کئی دفعہ تراکیب بتا چکا ہوں اس پر کسی نے آج تک عمل نہیں کیا تو مزید کسی ترکیب سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہونے وا لا ۔ ویسے نوجوانوں کو آج ایک راز کی بات بتانے کا دل کررہا ہے کہ آپ کسی طرح یہ دہی خراب کردیں اڈہ خود بخود بن جائے گا

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
74330cookie-checkدہی، دماغ اور چترالی اڈہ

کالم نگار/رپورٹر : شمس تاجک

Share This