خنّاس

جس دن آپ تسلیم کی اس سطح پر پہنچ جائیں یا پہنچادیئے جائیں کہ ذہن میں خناس سما جائے کہ آپ کچھ بن گئے ہیں۔ آپ کے پاس علم وافر مقدار میں موجود ہے اس دن صرف ذات کی تباہی نہیں بلکہ آپ کی ذات کی وجہ سے معاشرے کی بربادی شروع ہوجاتی ہے۔ یہ خناس دو طرح سے زندگی میں شامل ہوجاتا ہے۔ ایک صورت اس کی یہ ہوسکتی ہے کہ آپ چار کتابیں پڑھ لیں۔ کسی تسلیم شدہ یا غیر تسلیم شدہ ادارے سے جعلی یا اصلی کوئی ڈگری حاصل کریں۔ کچھ بچوں میں بیٹھ کر اپنے علم کا پہاڑہ سنائیں اور بچے آپ کے ہیجان زدہ علم پر جان نچھاور کرتے ہوئے واہ واہ کرنے لگیں تو ذہن میں خناس سمانے کے تمام راستے صاف ہوجاتے ہیں۔ خناس سمانے کے بعد آپ کو واقعی لگتا ہے کہ آپ کوئی ”چیز“ بن گئے ہیں۔ اس سطح کے سطحی آدمی سے یہی توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ انسان سے زیادہ ”چیز“ بننے کو ترجیح دے گا۔

دوسرا خناس اس وقت ذہن میں سماتا ہے جب آپ کو غلطی سے کسی نشست کا حصہ بنایا جائے۔ کسی گیدرنگ میں آپ کو بولنے کا موقع دیا جائے۔ تقریر جھاڑنے کے دوران، بچوں کے سکول میں یوم والدین کی تقریب یا پھر کسی سیمینار (اب تو ہر گلی کوچے میں سیمینار ہونے لگے ہیں) میں آپ کو غلطی سے کسی کا دھکا لگ جائے اور آپ لڑھکتے ہوئے اسٹیج پر پہنچ جائیں۔ چاروناچار آپ کو بولنا پڑے۔ تو سمجھو خناس کے وارے نیارے ہوگئے۔ اسٹیج پر پہنچنے کے غیر متوقع نعمت کے بعد آپ نزلے کی طرح سوشل میڈیا پر نازل ہوتے ہیں۔ پھر جو تماشا آپ سوشل میڈیا پر اظہار رائے کے نام پر لگاتے ہیں الامان الحفیظ۔ بطور دانشور آپ کتے کو انسان اور انسان کو ہاتھی ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں پھر کسی دوسرے کی بات سننا آپ اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ دنیا میں صرف آپ انسان ہیں باقی سب یا تو کتے ہیں یا پھر ہاتھی، بلی یا کوئی اور جانور۔ اس کمال کی صرف ایک وجہ ہے کہ آپ رات کو سوتے ہوئے انسان ہوا کرتے تھے جب صبح اٹھے تو دانشور بن گئے۔ ایسے انہونی پر انسان یا تو پاگل ہوجاتا ہے یا پھر آ پ اور میرے جیسا دانشور بن جاتاہے۔

انسان پورے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے جب غیر منطقی حقائق کو اپنا حق تسلیم کرلے اور اس پر بضد بھی ہو کہ باقی لوگ بھی اس کے ذہنی اختراع کو من و عن تسلیم کرلیں۔ جو کچھ وہ دکھانے یا بننے کی کوشش کررہا ہے اس کے سامنے دنیا بلا چوں و چرا سر تسلیم خم کرلے۔ تو وہ مسائل کا سبب بنتا ہے۔اظہار رائے کی آزادی اچھی بات ہے مگر اظہار رائے کی آزادی کا کوئی لیول تو ہونا چاہئے۔ اگر معاشرہ آپ کو مدر پدر آزاد کرچکا ہے۔ مگر آپ بھی ایک گھر سے تعلق رکھتے ہیں جہاں آپ کی تربیت بھی ہوئی ہوگی کچھ اس تربیت کا اثر کہیں نہ کہیں نظر آنا چاہئے۔ دانشور کا کام قومی اور مشترکہ مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے ذہن سازی کرنا ہوتا ہے اس ذہن سازی میں دانشور طبقہ لوگوں کو اپنے ملک کے لیے قربانی دینے، اپنے حقوق سے آگاہی اور ان کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے اور اپنے فرائض کی احسن طریقے سے ادائیگی کے لیے آمادہ کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ معاشرے میں موجود افراد کے اذہان کو اچھائیوں کی طرف موڑنے کا ذمہ دار ہوتا ہے تاکہ وہ اپنا ، ملک کا اور ملک میں موجود تعمیری کام کرنے والے اداروں کی بہتری کے لیے کام کرسکیں۔ اگر آپ معاشرے کی تعمیر کی بجائے معاشرے کی تخریب میں حصہ لیں گے تو ضروری نہیں کہ آپ کی لگائی ہوئی آگ یادوسروں کی لگائی ہوئی آگ جسے آپ ہوا دے رہے ہیں وہ ایک دن آپ کے گھر تک نہ پہنچے۔ اور کیوں سمجھتے ہیں کہ مفادات کے اس جنگ میں صرف آپ کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ باقی کسی کو نہیں۔ کوئی وجہ بھی تو ہو۔ اگر آپ اپنی رائے کا اظہار کسی بھی پلیٹ فارم پر کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں تو جواب سننے کا حوصلہ بھی رکھیں۔ وہ زمانہ کچھ اور تھا کہ آپ طنز کے تیر برساتے تھے مگر جواب میں پھول ملا کرتے تھے۔ اب آپ طنز کے تیر برساتے ہیں جواب میں نشتر وں کا ایک پورا گچھا ملتا ہے۔نشتروں سے بچنے کا واحد ذریعہ صرف ایک ہی ہے کہ آپ اس ”خناس“ کو ذہن تک پہنچنے ہی نہ دیں جس سے آپ کو لگتا ہے کہ آپ انسان نہیں رہے کوئی ”چیز“ بن گئے ہیں۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
53610cookie-checkخنّاس

کالم نگار/رپورٹر : شمس الرّحمٰن تاجک

Share This