جمہوریت کی دکانیں

ہمارے ملک میں تین دکانوں اور ان کی سوغات کا چرچا ہے۔ 

سب سے پرانی دکان میں شہادت بکتا ہے ۔ حالانکہ کاروبار کی رجسٹریشن روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی کے نام سے کروائی گئی تھی۔ کئی دہائیوں تک یہی کاروبار زبردست میں انداز چلتا رہا ۔پھر اور زیادہ کی لالچ میں کاروبار کو اتنی وسعت دی گئی کہ آہستہ آہستہ کاروبار کنٹرول سے باہر ہوگیا۔عام آدمی کو بھی وقت کے ساتھ اندازہ ہونے لگا کہ دکان میں بکنے والی اشیاء ان کی دسترس اور پہنچ سے کافی دور ہیں۔ جو روٹی اس دکان میں دستیاب ہے اس کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ کئی نسلوں اور دہائیوں کی محنت مزدوری، غلامی اور کئی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے بعد صرف روٹی کی قیمت ادا نہیں ہورہی ہے۔ کجا کہ کپڑے اور مکان جیسی سوغات کے بارے میں سوچیں۔ عام آدمی اور کاروباری شخص میں یہی فرق ہوتا ہے کہ کاروباری شخص زمانے کا نبض شناش ہوا کرتا ہے۔ ان لوگوں نے بھی عام آدمی کے نبض سے اندازہ لگایا کہ لوگوں کی دلچسپی پرانی سوغات میں کم ہوتی جارہی ہے لہذا کسی نئی سوغات کو لانچ کرنے کا یہی بہترین وقت ہے، مگر پچھلے تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے وہ کوئی ایسی سوغات مارکیٹ میں لانا چاہ رہے تھے جو دہائیوں کے بجائے صدیوں تک چلے۔ اسی سوچ بچار کے دوران ذوالفقار علی بھٹو جیسی شخصیت کو شہید کردیا گیا۔ ان کی شہادت کے بعد کارکنوں نے جب اپنے آپ کو سرعام آگ لگانا شروع کیا تو فیصلہ ہوا کہ بھٹو کی شہادت کو بطور مال بیچنا چاہئے۔وہ دن اور آج کا دن کاروبار کو وسعت ہی ملتی رہی۔ تین دہائیوں کے بعد جب بھٹو کی شہادت کا برانڈ پرانا ہوا تو ان کی پنکی کو شہید کردیا گیا۔ بس پھر کیا تھا کاروبار دن دگنی رات چوگنی ترقی کے منازل طے کرتا رہا، اب بھی کررہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اتنی بھاری مینڈیٹ لے کر اقتدار میں آنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا مگر ان کی شہادت کی سوغات کو استعمال کرتے ہوئے طاقت پکڑنے والوں نے ان کے قاتلوں کو پکڑنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
دوسری دکان میں سڑکیں، موٹروے، ہائی وے اور کہیں پہلی دکان والوں کے ساتھ مشترکہ طور پر ایٹم بم بھی بیچا جاتا ہے۔ کاروبار کی سوغات سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ کتنی مہنگی اور جدید ترین اشیاء کاکاروبار ہے۔ ساتھ میں وہ آج کل ایک اور برانڈ کی اشیاء کو بھی غیر محسوس انداز میں بیچنا شروع کیا ہے وہ ہمارے ملک میں غیر مقبول اور بیرونی ممالک میں مقبول ایک ایسے ادارے کو ہی بیچنے پر تل گئے ہیں جس سے ملکی سا لمیت وابستہ ہے۔ مگر مفادات کے اس جنگل میں کونسا ملک، کس کا ملک۔ جب آپ بے اندازہ دولت کما چکے ہوتے ہیں تو پھر اللہ کا جہاں بہت بڑا ہے۔ پھر بھی وہ اپنے اصلی کاروبار میں اتنا کچھ بیچ چکے ہیں کہ کم از کم براعظم ایشیا میں ان کا کوئی ثانی پیدا ہونا اب ناممکن سا لگتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز اور ہر فرد کو خریدا جاسکتا ہے اور کچھ حد تک ان کی رائے صحیح بھی ہے۔ ملک اور ملک سے باہر اثاثوں کے انبار لگانے کے بعد بھی نہ تو ان کا ہاضمہ خراب ہوتا ہے اور نہ ہی پیٹ بھرنے کا کوئی چانس ہے، نہ ہی اللہ میاں کے علاوہ ان سے باز پرس کرنے والا ملک میں کوئی فرد یا ادارہ موجود ہے۔جتنے دھڑلے سے وہ عوامی جذبات کو اپنے کاروبار کے استعمال کررہے ہوتے ہیں۔اور اس سے زیادہ غرور اور تکبر کا اظہار وہ ملکی اداروں کے سامنے پیش کررہے ہوتے ہیں۔ ان کی بہت ساری خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ لوگ شہید ہونے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی کسی مرے ہوئے کو زندہ ثابت کرنے کے لیے مرے جارہے ہیں۔ یہ لوگ آج کل نظریاتی بھی ہوگئے ہیں ان کا نظریہ یہی ہے کہ کاروبار جب خیالوں سے زیادہ ترقی کررہا ہو تو شہید ہونے کی بجائے کیوں نہ زندہ رہ کر زندگی کی مسرتوں سے لطف اندوز ہوں اور دوسروں کو بھی لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کریں۔
تیسری دکان والوں کا رجسٹریشن تبدیلی کے کاروبار کا ہے۔ تبدیلی کے رجسٹریشن کی آڑ میں آج کل وہ ڈرائی کلین کے کاروبار کو وسعت دے رہے ہیں، بلکہ وسعت دے چکے ہیں۔ اس دکان میں ڈرائی کلین کی اتنی زبردست مشینیں موجو دہیں کہ آپ کسی بھی جانور کو ان کی دکان سے ڈرائی کلین کرانے کے بعد انسان بنا سکتے ہیں۔ آپ خیالوں میں ایک تصور کو جنم دیں۔ آنکھیں بند کرکے جو ہاتھ آئے اٹھا کر مذکورہ دکان کی مشین میں ڈالیں وہاں سے آپ کے تصور میں موجود انسان باہر آئے گا۔ان کے پاس اتنے ماہر کاریگر موجود ہیں کہ کرپٹ ترین انسانوں کو اپنے ڈرائی کلین کے ذریعے فرشتے بنادیتے ہیں۔ ان کی ڈرائی کلین کی دکان پر آنے والا بندہ صادق بھی بن جاتا ہے، امین بھی بن جاتا ہے اور پتہ نہیں کیا کیا بن جاتا ہے۔ کبھی کبھی سوچنے کا دورہ پڑتا ہے تو میں کئی دن تک سو نہیں پاتا کہ آخر ان کے پاس ایسی کونسی جادوئی مشینیں ہیں جس میں سے گزارنے کے بعد ہر انسان فرشتہ بن جاتا ہے۔ اور یہ فرشتہ نہ صرف اس دکان کے لیے قابل قبول ہوتا ہے بلکہ پورے ملک کے لئے قابل قبول بن جاتا ہے۔ قرائن بتارہے ہیں کہ ان کے ڈرائی کلین کا کاروبار کچھ دہائیوں تک خوب چلے گا۔
ان بڑی دکانوں کے علاوہ چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والے بے شمار دکاندار موجود ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنی حیثیت کے حساب سے کاروبار کررہا ہوتا ہے۔ کوئی ملکی ادارے بیچتا ہے، کوئی علاقیت بیچتا ہے، کوئی غداری بیچتا ہے، کوئی حقوق نسواں بیچتا ہے، کوئی سیکولرازم بیچتاہے، کوئی کے پی کے بیچتا ہے، کوئی بلوچستان بیچتا ہے، کوئی سندھ بیچتا ہے اور کوئی پنجاب بیچتا ہے۔ کچھ دانائے راز ایسے بھی ہیں جوسیدھا سیدھا ملک بیچتے ہیں۔ آخر میں ایک اعتراف بھی ضروری ہے کہ کچھ کاروباری حضرات کا ذکر کرنے سے قاصر ہیں ہم، ورنہ وہ لوگ مجھے بیچ دیں گے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
51950cookie-checkجمہوریت کی دکانیں

کالم نگار/رپورٹر : شمس الرحمن تاجک

Share This