خواتین ممبران کا احتجاج

دنیا میں کوئی ایسا معاشرہ موجود نہیں جہاں خواتین کو عزت نہیں دی جاتی ہو۔ مگر گذشتہ دو سال سے مہذب ترین چترال کے مہذب ضلعی حکومت کے ذمہ داروں نے خواتین ممبران کو مسلسل احتجاج پر مجبور کررکھا ہے۔ یہ اپنے آپ کو ’’مہذب‘‘ قرار دینے والے معاشرے اور شہریوں کو کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا کہ ان کے علاقے کی خواتین اپنے جائز حقوق کے لیے آئے روز احتجاج کرتی ہوئی نظر آئیں اور ذمہ دار افراد اُن کے احتجاج کو اتنی بھی حیثیت نہ دیں کہ ان کی حمایت یا مخالفت میں کوئی بیان ہی دے دیں۔
جب سے ضلعی حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے اور فنڈز کی تقسیم کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس وقت سے ضلع چترال کی ضلعی حکومت میں شامل خواتین ممبران احتجاج کررہی ہیں کہ ان کو ان کا جائز حق نہیں دیا جارہا ہے مگر اس بات کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔ اس احتجاج کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ دو سال پہلے بھی ان کے احتجاج کا طریقہ اور بینر وہی تھا آج بھی وہی ہے۔ ان مجبور و بے کس خواتین کے پاس بینرز بنانے تک کے پیسے نہیں ہیں مگر ضلعی حکومت ٹس سے مس ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے مطالبات یا احتجاج غیر منطقی ہو مگر اتنی حیثیت تو ان کو دینی پڑے گی کہ ان کے احتجاج کا نوٹس لیا جائے او بروقت مطالبات کی منظوری یا مطالبات کے غیر حقیقی ہونے سے متعلق عوام کو آگاہ کیا جائے۔آخر کار وہ چترال کی آبادی کے 50 فی صد کی نمائندگی کررہی ہیں۔
احتجاجی خواتین الزام لگا رہی ہیں کہ ضلعی حکومت کے ذمہ دار اپنے من پسند خواتین کو فنڈز کی فراہمی یقینی بناتے ہیں، اپوزیشن میں شامل خواتین کو باقاعدہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ وہ اپوزیشن میں ہیں اس لیے ان کو فنڈز دینا نہ دینا حکومتی ارکان کی مرضی پر منحصر ہے۔ خواتین ممبران کو تکلیف دہ رویے کا بھی دکھ ہے۔ خواتین ممبران کو مسلسل حق تلفی کی شکایت ہے۔ یہ ساری شکایتیں ایک جانب مگر اب خواتین ممبران اس رویے سے اتنے نالاں ہیں کہ وہ اپنے جائز مطالبات اور عوام کے حقوق کے لیے کام کرنے کی بجائے مقامی حکومت کا اصل چہرہ عوام اور خواتین کے سامنے لانے کا فیصلہ کرچکی ہیں جو کہ کچھ حد تک اس بات کا غماز ہے کہ وہ مسلسل حق تلفیوں سے تنگ آچکی ہیں۔
سوال یہ بھی بنتا ہے کہ ملکی قوانین میں کہاں درج ہے کہ اپوزیشن کی نمائندگی کرنے والے ممبران یا خواتین ممبران کا ترقیاتی بجٹ میں کوئی حصہ نہیں ہوتا یا کم ہوتا ہے۔ اپوزیشن پارٹی سے منتخب ہوکر آنے والے افراد بھی اسی ملک کے شہری ہیں بحیثیت ممبر ان اُن کا بھی وہی حق بنتا ہے جو حکومت میں موجود ممبران کا ہوتا ہے۔ ان ممبران کو اُن کا جائز حق نہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت میں موجود لوگ اس مخصوص علاقے کو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رکھنا چاہ رہے ہیں جہاں سے انہیں ووٹ نہیں ملے یا کم ملے۔ اس نظریے کو پروموٹ کرنے کے بعد آپ اگلے الیکشن میں کس منہ سے ایسے علاقوں میں ووٹ مانگنے جائیں گے یا پھر حکومتی ارکان فنڈز کی عدم فراہمی کو یقینی بنا کر علاقے کے عوام کو دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر ہمیں ووٹ نہیں دیں گے تو ملکی خزانے سے ملنے والی ترقیاتی بجٹ میں آپ کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ چونکہ ہم حکومت میں ہیں اس لیے ہماری مرضی آپ کو جینے دیں یا نہ دیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگلے انتخابات کے نتیجے میں اپوزیشن کی بنچوں پر آپ بھی ہوسکتے ہیں کیا اس وقت آپ کو یہ جائز لگے گا کہ اپوزیشن ممبر ہونے کی حیثیت سے آپ کے ساتھ بھی یہی ناجائز رویہ روا رکھا جائے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ ایک مہذب معاشرے کے فرد ہونے کے ناطے ہمیں چترال میں خواتین ممبران اور اپوزیشن ارکان کی قدر حکومت میں موجود ارکان سے زیادہ کریں۔ ان کو فنڈز کی بروقت اور ان کے جائز حق کے حساب فراہمی یقینی بنائیں۔ اگر خواتین ممبرز کی ہڑتال ملکی قوانین کی رو سے جائز نہیں تو ضلعی حکومت کے ذمہ داروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو حق بات سے آگاہ کریں۔ورنہ خواتین ممبران کا احتجاج روز میڈیا کی زینت بن کر ہماری رسوائی کا سبب بنے گا۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
49640cookie-checkخواتین ممبران کا احتجاج

کالم نگار/رپورٹر : شمس الرحمن تاجک

Share This