سونے کا تاج

حیرت ہوتی ہے کہ شاہ رخ جتوئی عدالت سے باہر وکٹری کا نشان بنا کر کس کو دیکھا رہا تھا ، جس ماں کا بچہ اس نے ماردیاتھا کیا اس کو اپنی طاقت دیکھا رہا تھایا پھر فیصلے کا اختیار رکھنے والے افراد کو یہ دیکھا رہا تھا کہ دو کھوکھا لے لو اور میرا کیس اتنا کمزور کردو کہ میری جیت یقینی بن جائےیا پھر مقتول کے والد کو دیکھا رہا تھاکہ اگر کیس جاری رکھا تو آپ کے بھی دو ٹکڑے ہوسکتے ہیں اور ہوا بھی یہی کہ وہ کیس کہاں گیا ؟کیا فیصلہ ہوا ؟کسی کو نہیں پتہ،نہ ہی کسی کو اب اس کیس سے کوئی دلچسپی ہے۔

پھرمنظر پر ایان علی نام کی ایک ماڈل آتی ہیں۔ عدالت میں پیشی کے دوران ان کے لباس، میک اپ اور پروٹوکول سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ریمپ پر واک کرنے کے لیے آئی ہیں وہ پانچ لاکھ ڈالر اسمگلنگ کیس کی ملزمہ تھیں، شاید ہم یہ بھول ہی گئے کہ اس کیس کو منظر عام پر لانے والے شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، ہمارے فیصلہ ساز اداروں نے ایان علی سے کئی دفعہ میڈیا کے سامنے کیٹ واک کرایا، سب کو پتہ تھا کہ یہ بھی ایک دن وکٹری کا نشان بنا کر رخصت ہوجائے گی، ایسے کیسز میں دیر سویر اس لیے ہوتی ہے کہ مبینہ ملزم یا ملزمہ کو وکٹری کا نشان بنانے کی اجازت دینے سے پہلے سب کا حصہ طے ہونا ہوتا ہے ، صرف بارگینگ کے لیے ٹائم لیا جاتا ہے، اس دورانیے میں دونوں پارٹیوں کو یہ بات کنفرم کرادی جاتی ہے کہ ہم کسی کو سزا نہیں دیں گے بس ہمارا حصہ ہم تک پہنچانے میں دیر نہیں ہونی چاہئے،، پھر کیا ہوا کہ ایان علی بھی وکٹری کا نشان بناتے ہوئے رخصت ہوگئیں اور پوری قوم ایک مفت کے انٹرٹینمنٹ سے محروم ہوگئی۔

بارگینگ سے یاد آیا کہ ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی جس میں ایک سیٹنگ وزیر، وزیر اعلی کے نام پر بارگینگ کررہا ہوتا ہے، اس پر شاید سوموٹو بھی ہوا تھا وہ ویڈیو اب بھی مارکیٹ میں 30 روپے میں دستیاب ہے مگر پھر وہی کہ فیصلہ ساز اداروں کو کوئی ثبوت نہیں ملا ان کو آج تک وہ مخصوص ویڈیو بھی نہیں ملا، کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ شخص وکٹری کا نشان بناتے ہوئے کسی اور وزارت کا قلم دان سنبھال چکے ہیں۔ اب کسی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ شخص کیا کررہا ہے اور کس کی اجازت سے کررہا ہے، میڈیا نے بھی چار دن کی ریٹنگ کے دوڑ میں شمولیت کے بعد سب کچھ بھولا دیا عوام تو ہماری ہے ہی دماغ سے فارغ مخلوق، ان کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ کون ان کو کس کس طرح سے لوٹ رہا ہے۔

منظر بدلتا ہے ایک صاحب 4 سو ارب کی کرپشن کے بعد نماز جمعہ کی امامت فرما رہے ہوتے ہیں اور ہم عش عش کر اٹھتے ہیں ایسے فرشتوں پر ایسا گھناؤنا الزام، چار سو ارب کا کرپشن والا بندہ وکٹری کا نشان بنانے کے بجائے نماز پڑھتے ہوئے ویڈیو بنوا کر عوام کے سامنے پیش کرنا زیادہ بہتر سمجھتا ہے، اس ویڈیو سے وہ ہر مکتبہ فکر کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے پھر وکٹری کے نشان کی کیا ضرورت ہے۔

منظر پر کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو خود سے کچھ نہیں کرتے بلکہ ہم ان کے احسانات کا بدلہ ان کو سونے میں تول کر یاسونے کے تاج پہنا کر چکاتے ہیں، ان افراد کو سونے کے تاج پہناکر ہم غیر مہذب دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کرپشن ایک شعبہ زندگی ہے، ایک پیشہ ہے، روزگار کا ایک باعزت ذریعہ ہے، ہم بحیثیت قوم تمام کرپٹ افراد کی دل سے قدر کرتے ہیں، ان کی ملک میں غیر موجودگی ہمارے لیے ایک المیے کا درجہ رکھتی ہے ہم ان کی واپسی کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور جب وہ واپس آتے ہیں تو ہم انہیں ووٹ دے کر اپنا حکمران بھی بناتے ہیں اور سونے کے تاج بھی پہناتے ہیں۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
28830cookie-checkسونے کا تاج

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This