ہم آزاد ہیں!!

ہم آزاد ہیں!! آباؤ اجداد کے خون، بہو بیٹیوں کی عصمت ، جوانوں کی اسیری، عزیزو اقارب کی جدائی، معصوموں کی بہیمانہ قتل ، اکابریں کی تذلیل اور خواہشات کی قربانی پر حاصل کی گئی ملک کو لوٹنے کے لیے۔۔۔ ہم آزاد ہیں!! موسمی مینڈک بننے ، سبز باغ دکھانے ، آئین و قانون کو پیروں تلے روندنے ،ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح دینے ،اقرباء پروری ، رشوت ستانی، چوری ڈکیتی  اور قرضے لیکر معاف کروانے کے لیے۔ ہم آزاد ہیں!! کہ خود کروڑوں میں کھیلیں گے اور غریب دو وقت کی روٹی کو ترسے گا ۔۔۔ خود کے محلات جگمگاتے رہیں گے ۔عوام کو مٹی کا دیا بھی نصیب نہیں ہوگا۔۔۔ جانوروں کے حقوق کا پرچار کریں گے اور احترام آدمیت نا پید ہوگی۔ ہم آزاد ہیں!! مذہبی منافرت پھیلانے، مسلمان کو کافر قرار دینے ، نسلی امتیازپیدا کرکے اپنا الو سیدھا کرنے کیلیے۔
ہم آزاد ہیں!! کہ انصاف کا پجاری بن کر انصاف کا خون کرینگے ۔ آئین و قانون کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھ کر جب بھی جس طرح  بھی چاہیں توڑ مروڑ لیں   یا ردی کی ٹوکری کی زینت بنائیں۔ بے قصور کو قصور وار اور مجرم کو با عزت بری کریں گے یا کرائیں گے۔۔۔ ہم آزاد ہیں !!تبھی تو قاتل دندناتے پھر رہے ہیں اور معصوم کال کوٹھریوں میں بند ہیں۔
ہم آزاد ہیں!! دودھ میں پانی ملانے کے لیے، ناپ تول میں کمی ، مصنوعی گرانی، بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی کرنے اور گلی سڑی اشیاء فرو خت کرنے کے لیے۔۔۔ آزاد ہیں!! اسی لیے تو ایمان بیچ کر دولت حاصل کر رہے ہیں اور اسی لیے ہی اِرتکاز دولت کو اپنا شیوہ بنائے ہوئے ہیں اور غریبو ں کا خون چوس رہےہیں۔
ہم آزاد ہیں جز وقتی ملازمت کے لیے ، سرکاری ادارے کا منتظم ہو کر اسی نوعیت کا ذاتی ادارہ چلانے کے لیے، فرسودہ طریقہ تدریس کے ذریعے طلبہ کی علمی صلاحیتوں کا قلع قمع کرنے کیلیے، میرٹ کی تضحیک اور استحصال بشریت کے لیے۔
ہم آزاد ہیں!! مسیحا کے روپ میں بھیڑیا بننے کے لیے، ذاتی دکان کی خاطر قومی ادارو ں کا ستیا ناس کرنے کیلیے ، غریب کی جمع پونجی لوٹ کر عیاشی کرنے کے لیے اور دل کا علاج کرکے دماغ خراب کرنے کیلیے۔
ہم آزاد ہیں!! قیمتی وقت لہوو لعب میں اڑانے کے لیے، حصول علم سے منہ موڑنے ، سفارش و نقل پر تکیہ کرنے ، بڑوں کا احترام نہ کرنے، اساتذہ سے بد تمیزی کرنے اور ماں باپ کی حکم عدولی  کیلیے۔ ہم آزاد ہیں!! اکیلے خاتون پر آواز کسنے کیلیے، اخلا قیات کو پیروں تلے روندنے کے لیے، سائنسی ایجادات کا بے تحاشہ اور منفی استعمال کرنے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرکے بے موت مرنے کے لیے۔ ہم آزاد ہیں!! تبھی تو قظرینہ کیف ہماری آئیڈیل اور ٹام کروز ہمارے ہیرو ہیں۔ آزاد ہیں!! اس لیے تو سلام کی جگہ ’’ہائے ‘‘ اور امی ابو کی جگہ ’’مام‘‘ اور’’ڈیڈ‘‘ جیسے بے ڈھنگے الفاظ آ گئے ہیں۔ لڑکی لڑکا اور لڑکا لڑکی بننے کے لیے آزاد ہیں۔
ہم آزاد ہیں اس لیے تو’’ہا لی وڈ ‘‘ اور ’’بالی وڈ‘‘ گھروں میں گھس آئے ہیں۔ آزاد ہیں !! آزادی کے نام پر خوف پھیلانے کے لیے ، جھوٹ کو سچ ثابت کرنے ،چادر اور چار دیواری کا احترام نہ کرنے ، منفی پرو پیگنڈا ، پراگندہ لٹریچر ، بے را ہ روی ، عریانی اور فحاشی پھیلانے اور ثقافت کے نام پر اخلا قیات کا جنازہ نکالنے کے لیے۔
یہ سب  ہیں تو کون کہتا ہے کہ ہم آزاد نہیں۔۔۔
عام آدمی؟؟؟ نہیں ۔۔۔آپ کی آزادی نے ہمیں بھی آزادی دی ہے ہم آزاد ہیں ایک لخت جگر بیچ کر باقی دو کو پالنے کا انتظا م کرنے کیلیے، ’’ اولاد برائے فروخت‘‘ کی تختی لگا کر پارکوں میں گھومنے کے لیے ، غربت و افلاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے ہی جگر کوشوں کے سینوں پر چھرا گھونپنے کے لیے، عزت گروی رکھ کرماں باپ کا علاج کرنے کیلیے، گردے بیچ کر حصول انصاف کی ناکام کوشش کرنے کیلیے ، بیٹی کی قربانی دے کر بیٹے کو تعلیم دلوانے کیلیے اور پھر ’’تنگ آمد بجنگ آمد ‘‘ کے مصداق خود کشی کرنے یا ’’خود کش ‘‘ بننے کے لیے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
26050cookie-checkہم آزاد ہیں!!

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتے ہیں۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچ ہو اور اسلامی نظریہ اور نظریہ پاکستان سے متصادم نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This