ہم لکھتے کیوں ہیں؟(پہلی قسط)

ہم کیوں لکھتے ہے ؟ یہ بڑا مشکل سوال ہے ؟ کیونکہ اس سوال میں ایک لکھاری کیوں لکھتا ہے ؟ اور بحیثیت لکھاری سماج میں اس کا کیا کردار ہے ؟ اور اس عمل و کردار کے کیا نتائج ہے؟ کیا اس کے نتائج سود مند ہے یا محض کاغذ و قلم کا بے جا استعمال اور وقت کی بر بادی؟ سب کا جواب موجود ہے۔یقیناًانسانی سما ج میں لکھنے والوں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ ایک لکھنے والا اپنا وقت ، ذہنی مشقت اور علم ،انسانیت اور انسانی سماج کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ایک لکھنے والا سماج کی اصلاح اور علم و آگہی کی روشنی پھیلانے کے لیے لکھتا ہے۔ جہالت کے اندھیرے مٹانے اور ظلم، بے رحمی کا پردہ چاک کرنے کے لیے لکھتا ہے۔ سچائی کو عام کرنے اور عدل و انصاف کی بالادستی کے لیے لکھتا ہے۔ وقت اور حالات کے مطابق زندگی کو رنگ اور خوبصورتی دینے کے ساتھ ساتھ انسانی ذات کی گہرائیوں اور کائنات کی وسعتوں کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے لکھتا ہے۔ ہر اس مسلے پہ لکھتا ہے جس کا تعلق انسان اور انسانی و کائناتی معاملات سے ہوں۔ تاکہ وقت کے دھارے میں انسان جمود کا شکار نہ ہوں اور مسلسل جستجو اور تلاش سے کاروانِ زندگی میں سفر کریں۔ لیکن جب ان ساری باتوں کا جواب نفی میں ہوں۔ اب تک جو لکھا گیا ہے ، جو لکھا جارہا ہے۔ اور لکھا جائے گا۔ سب ایک بے معنی کوشش لگتے ہوں۔ تو ایک لکھاری کیوں لکھیں؟ جب روشنی لکھے تو اندھیروں کو پڑھیں اور اگر ایک لکھنے والا اپنی من کی خوشی اور تخلیقیت پسندی کی وجہ سے بھی لکھتا ہیاور اس کا نتیجہ داد و تعریف ہو تو اس کا کیا حصول ؟ لکھنے والوں میں دو طبقے ہے ایک طبقہ وہ ہے جو ضمیر یعنی ذات کی سچائی کی روشنی میں لکھتے ہیں۔ اور دوسراضمیر کو بیج کر ذات کی تاریکیوں کی سیاہی میں لکھتے ہیں۔ اب بے ضمیر اہل قلم طبقے کا کاروبار بھی خوب چلتا ہے اور ایک ایسا سماج جہاں جہالت کے سامنے علم ذلیل و رسواہوگئی ہو۔ تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

Zeal Mobile Reporter
Share This