جون ایلیا نیا سال کیسے مناتے تھے

نئے  سال اور پرانے سال کے کوئی معنی نہیں ہے۔زمانے میں نہ لمحے ہیں نہ ساعتیں ‘ نہ دن ہے ‘ نہ ہفتے‘ نہ مہینے ہے اور نہ سال ۔ زمانہ ایک لمحہ بھی ہے اور لمحے کا ہزار واں حصہ بھی ۔ زمانہ ازل بھی ہے اور ابد بھی ۔ زمانہ ہی وہ سب کچھ ہے جو ہے۔ زمان وجود اور عدم کا ایک سمندر ہے۔ ایک بے کنار اور بے کراں سمندر ‘ جس میں ہم بہہ رہے ہیں۔ڈوب رہے ہیں اور ابھر رہے ہیں۔پھر بھی ہمارا جسم ہے کہ نہیں بھیگتا۔ ہمارے کپڑے ہے کہ خشک رہتے ہیں۔

زمانہ ہمارے دائیں بھی ہے اور ہمارے بائیں بھی۔ زمانہ ہمارے سامنے بھی ہے اور پیچھے بھی۔ زمانہ ہمارے اوپر بھی ہے اور ہمارے نیچے بھی۔ زمانہ ہمارے اندر بھی ہے اور باہر بھی ۔ہمارا بدن اور ہماری روح زمانے کے سوا اور کیا ہے۔ وہ جو مل رہے ہیں اور وہ جو بچھڑ گئےہیں۔ وہ کون ہے اور وہ کون تھے؟ میں اور تم جو ایک تم میں سانس لے رہے ہیں۔ میں اور تم جو ایک دوسرے کا سکھ بھی ہے  اور دکھ بھی۔ آخر ہم کون ہے۔ وہ جو ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں وہ جو ایک دوسرے کے بغیر ایک پل بھی نہیں گزارا کر سکتے ‘ وہ جو ایک دوسرے کی جدائی میں مر جاتے تھے اور رسائی میں جی اٹھتے تھے۔ وہ کون تھے وہ، کیا وہ زمانے کے سوا کچھ اور تھے۔ کیا تم کائنات کو بدلتے ہوئے دیکھتے ہو؟کیا سورج کبھی نکلتا ہے اور کبھی نہیں نکلتا ؟کیا چاند کبھی ڈوبتا ہے اور کبھی نہیں ڈوبتا ؟ یہی تو زمانہ ہے جو ہے سب کچھ ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ۔

وقت نہ شروع ہوتاہے اور نہ ختم ‘ وہ ایک آن ہے جو دوام میں پھیلی ہوئی ہے۔ وہ دوام ہے جو آن میں سمٹاہوا ہے۔  مگر پھر بھی تقویم ماہ و سال کا ہم ایک نیا ورق الٹ رہے ہیں۔ نیا سال نئے سوال لے کر سامنے آیا ہے۔ اور گزرا ہوا سال ہم سے ایک محاسبہ چاہتا ہے۔ اس طرح ذہین میں کچھ نہ کچھ سوال پید ا ہوتے ہے۔ سوال جو ہماری گزشتہ اور آئندہ زندگی پر محیط ہے۔ ۔ پہلا سوال یہ ہے آیا ہم کیا واقعی آزاد ہے ؟ بلاشبہ ہم نے 14اگست 1947 میں آزادی کا جشن منایا تھااور اخباروں کے شواہد سے اس امر کی پیشن گوئی کی جاسکتی  ہے۔ لیکن اس نوع کی شہادت کے ذریعے ہم اس سے زیادہ اور کیا ثابت کرسکتے ہے کہ انگریز یہاں سے چلے گئے، رہی آزادی تو وہ کسی جشن کا نام ہرگز نہیں ۔ جشن جس کے چراغ صبح تک بجھ جاتے ہے۔ اور نہ وہ کوئی خبر ہے جو شام تک باسی ہو جاتی ہے۔ عجیب تر بات یہی ہے۔ کہ ہم نے آزادی کو خو و  کی روشنی اور کاغذوں کی روشنائی سے زیادہ اور کچھ نہیں سمجھا ۔

آزادی ‘ غلامی کے عہد میں بھی موجود تھی، اور غلامی آزادی کے دور میں بھی باقی ہے۔ کیا زمانہ ان افراد سے ناواقف ہے جو برطانوی سامراج کی موجو دگی میں بھی آزاد تھے اور کیا دنیا ان لوگوں سے واقف نہیں جو غلامی سے نجات پانے کے بعد غلام ہوئے ۔ کیا اقبال غلام تھے ؟ کیا قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان 14 گست 1947کے بعد آزاد ہوئے تھے؟ حصول آزادی کے بعد ہم نے ایک گروہ کو دیکھا جس کے جسم آزاد ہے اور روحین غلام۔ گزشتہ غلامی جبر سے قبول کی گئی لیکن یہ غلامی پوری رضامندی کے قبول کی گئی ہے۔

یہ دور پاکستان کی زندگی کا  سب سے نازک دور ہے ۔ اگر اس دور میں سماج کے منفی قدروں کو استحکام حاصل ہوگیا ۔ تو یہ ملک نفسیاتی ،اخلاقی، تہذیبی اور سیاسی اعتبار سے دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا۔ اور پھر اس کا ازالہ پھر کسی طرح ممکن نہ ہوسکے گا۔  کسی اعلیٰ تصور حیات اور سماجی نصب العین کے بغیر  کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ لہذا اس سلسلے میں قوم کے  ذمے دار افراد کو  سب سے پہلے جو کام کرنا ہے۔ وہ یہ ہے کہ افلاس اور جہالت کے خلاف ایک ہمہ گیر اور طاقت ور مہم شروع کی جائے کیونکہ اس وقت ہم معاشی پستی ، سماجی زبون حالی اور تعلیم پسماندگی کی جس منزل میں ہے۔ وہاں کوئی اعلیٰ تصور حیات اور بلند نصب لعین ہمارے درد کا درمان نہیں بن سکتاتعمیر و ترقی کا سفر اسی وقت شروع ہو سکتاہے۔ جب ہم موجودہ منزل سے کافی حد تک دور نکل جائیں۔ یہ ہے وہ بنیادی مسٔلہ جس پر ہمارے ارباب اقدار کو سوچنا اور عمل کرنا ہے۔ ورنہ خوش آئند باتیں کرتے رہنا ایک دلچسپ مشغلہ سہی لیکن ایک ہوشمندانہ اور نتیجہ خیز طریق کار ہرگز نہیں ۔ قوم کو شاندار کوٹھیوں اور قیمتی کاروں کی کوئی ضرورت نہیں ۔  اسے اسکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں، تربیت گاہوں ، ہسپتالوں ، لہلہلاتے کھیتوں اور کارخانوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس انداز میں سوچنا ہوگا۔ سوچنا ہی نہیں عمل کرنا ہے۔ کہ ان مسٔلوں کے سامنے باقی مسٔلے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

آپ لوگ سوچتے ہوں گے کہ مٰیں نے اپنا موضوّع “ جون ایلیا نئے سال کو کیسے مناتے تھے“ کیوں رکھا؟ یہ خیالات جوں ایلیا کے ہی تو ہے۔ لوگ  نئے سال کا  جشن مناتے تھے لیکن جون ایلیالوگوں کی جہالت کا رونا روتے وہ اپنے قلم اور سوچ سے سماج کو بدلنا چاہتے تھے۔ اپنے لوگوں کی ذہنی غلامی اور فکر پر قد غن کے خلاف تھے۔ انھوں نے لوگوں میں شعور بیدار کیا ۔ لیکن جون ایلیا کا خواب حقیقت میں نہیں بدلا۔ اب بھی ہم وہی کے وہی ہے۔ کیا ہم نے اپنے اس مفکر کی فکر کی لاج رکھا ہے؟ تبھی تو جون ایلیا کہتے ہیں ۔  جون ایلیا تنہائی اور بے وفائی سے ہارے ہیں جون ایلیا علمی بونوں سے ہارے ہیں۔ جون ایلیا اپنے خون سے ہارے ہیں۔ ، جون ایلیا اپنی ثقافت سے ہارے ہیں، جون ایلیا اپنی روایت سے ہارے ہیں۔

Zeal Mobile Reporter
Share This