جمہوریت کے دعویدار آمریت پسند جماعتیں

جمہوریت ایک طرز حکومت ہے جہاں عوام کی حکمرانی ہوتی ہے، جس میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ جمہوریت کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ بلا واسطہ جمہوریت اور بالواسطہ جمہوریت۔ بلاواسطہ جمہوریت میں قوم کی مرضی کا اظہار براہ راست افراد کی رائے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کی جمہوریت صرف ایسی جگہ قائم ہوسکتی ہےجہاں ریاست کا رقبہ بہت محدود ہو اور ریاست کے عوام کا یکجا جمع ہو کر غور و فکر کرنا ممکن ہو۔ اس طرز کی جمہوریت قدیم یونان کی شہری مملکتوں میں موجود تھی۔ ان دنوں یہ طرز جمہوریت سوئٹیزر لینڈ کے چند شہروں اور انگلینڈ کی چند بلدیات تک محدود ہے۔جدید وسیع مملکتوں میں تمام شہریوں کا ایک جگہ جمع ہونا اور رائے کا اظہارکرنا طبعاً ناممکنات میں سے ہے۔ پھر قانون کا کام اتنا طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے کہ معمول کے مطابق تجارتی اور صنعتی زندگی قانون سازی کے جھگڑے میں پڑ کر جاری نہیں رہ سکتی، اس لیے جدید جمہوریت کی بنیاد نمائندگی پر رکھی گئی ہے ، چنانچہ ہر شخص کے مجلس قانون ساز میں حاضر ہونے کی بجائے رائے دہندگی کے ذریعے چند نمائندے منتخب کر لیے جاتے ہیں جو ووٹروں کی طرف سے ریاست کا کام کرتے ہیں۔ جمہوری نظام حکومت میں عوام کے دلوں میں نظام ریاست کا احترام پیدا ہوتا ہے ، کیونکہ اس میں نظام حکومت خود عوام یا عوام کے نمائندوں کے ذریعے پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے مگر یہ جذبہ صرف اس وقت کارفرما ہوتا ہے جب عوام کی صحیح نمائندگی ہو اور اراکین مملکت کا انتخاب صحیح کیا جائے ۔ہمارے ہاں پاکستان میں جو سیاسی نظام رائج ہے وہ ڈیموکریسی تو نہیں البتہ ارسٹوکریسی سے کسی قدر مماثلت رکھتا ہے۔ لیکن یہ خالص ارسٹوکریسی بھی نہیں ہے۔پاکستانی سیاسی نظام اگر ڈیموکریسی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اسلامی نظام ہے۔ بات ابھی صرف یہ ہے کہ یہ ڈیموکریسی ہے یا نہیں ہے۔ اگر ہے تو ڈیموکریسی کی جو عالمی تعریف ہے، یہ نظام اس پر پورا اترتا ہے؟ اور اگر نہیں تو پاکستان کے سیاسی نظام کو عالمی سیاسی نظاموں کی فہرست میں سے کیا ٹائٹل دیا جا سکتا ہے۔ دنیا میں کئی ایک سیاسی نظام معروف ہیں وہ ڈیموکریسی، ارسٹو کریسی، مونارکی، آٹوکریسی وغیرہ شامل ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جمہوریت بدترین نظام حکومت ہے، لیکن ان نظاموں سے بہتر ہے جو اب تک آزمائے جا چکے ہیں۔ یہ الفاظ سر ونسٹن چرچل کے ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد برطانوی وزیر اعظم رہے۔ تب سے آج تک اس قول میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور جمہوریت کی اچھائیوں برائیوں کو پرکھنے کے بعد بھی دنیا میں سب سے مقبول نظام حکومت جمہوریت ہی ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سیاسی جماعت جمہوریت کے گن گاتی ہے، خود کو جمہوری نظام کا علمبردار کہتی ہے اور اس مقصد کے لیے دی جانے والی قربانیوں کا ذکر فخر سے کرتی ہے۔جمہوریت کے دعوے دار اپنی پارٹیوں میں جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں دیتے، مشاورت کا کوئی نظام نہیں، نام نہاد جمہوری پارٹیاں بدترین آمریت کے نرغے میں ہیں ، پارٹی میں فرد واحد تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھتے ہوئے خود فیصلے کرتاہے ،لیکن جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے اندر جمہوری کلچر موجود ہے جہاں ہر عہدے کےلئے باقاعدہ انتخاب ہوتا ہے ۔چترال کے حوالے سے حوصلہ افزا خبر سامنے آرہی ہے جہاں جماعت اسلامی نے حلقہ پی کے ون کےلئے ضلع ناظم چترال حاجی معفرت شاہ صاحب کو نامزد کیا ہے ۔اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر محرک اور متحرک سیاسی کارکن طوطا مینا کی وہی گھسی پٹی کہانیاں لکھ رہے ہیں کہ حاجی معفرت شاہ صاحب نے اپنے کو مسلط کیا ہے ۔مجھے جماعت اسلامی کے ایک ذمہ دار عہدیدار نے بتایا حاجی معفرت شاہ صاحب ایک صاف و شفاف جمہوری عمل کے ذریعے نامزد ہوئے ہیں ،لہٰذا جمہوری سوچ رکھنے والوں کو اس فیصلے کی تائید کرنی چاہیے ۔ اسی طرح دیگر سیاسی جماعتوں کو اپنے امیدوار سامنے لانے کےلیے جماعت اسلامی کی تقلید کرنی چاییے تاکہ جمہوری کلچر کو فروغ دیا جا سکے ۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
67920cookie-checkجمہوریت کے دعویدار آمریت پسند جماعتیں

کالم نگار/رپورٹر : شمس الحق نوازش

Share This