مجبوری کی لکیر پڑھئیے!

وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ‘دی نیو یارک ٹائمز’ میں کارا بکلی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بہت سے سفید پوش امریکی زندگی میں پہلی مرتبہ بے روزگاری الاؤنس اور خیراتی رقوم کے لیے درخواست کرنے لگے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر ڈیلس میں ایک فوڈ بنک کے باہر کاروں کی لمبی قطار لگی تھی اور اس میں ایسی کار سے لے کر جس کی کھڑکی ٹوٹی ہوئی تھی’ شیورلیٹ تاہو اور جیگوار جیسی مہنگی اور بڑی بڑی گاڑیاں بھی موجود تھیں۔ ان گاڑیوں میں مفت کھانا حاصل کرنے کے  لیے ایسے لوگ موجود تھے جن کے بارے میں کوئی ایسا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ لوگ بھی خیرات کا کھانا وصولنے پر مجبور ہوں گے۔ ان میں ایک تعمیرات کے نقشے بنانے والا، ایک ہائی سکول کا انتظامی افسر، ایک کالج کا طالبِ علم، وئیر ہاؤس میں کام کرنے والے صاحب اور ایک سیون الیون میں کام کرنے والا کلرک شامل تھے۔

یہ تو ایک شہر کی کہانی ہے’ نہ جانے کورونا کی نہ رکنے والی وباء اپنے پیچھے غربت کی اور کتنی داستانیں چھوڑ جائے گی۔ یقینا کورونا کے بعد کی صورت حال کے اس سارے منظر میں شب سے ذیادہ قابل رحم طبقہ سفید پوشوں کا رہا جو ہر لحاظ سے تعاون اور امداد کے مستحق ہونے کے باوجود کسی کے سامنے دست طلب بڑھانے سے ہچکچاتا ہے۔ سفید پوشوں کے ماتھے پر مجبوری کی ایک لکیر ہوتی ہے’ جسے ہر عام آدمی نہیں پڑھ سکتا، اور جو مجبوری کی اس لکیر کو سمجھے وہ عام آدمی نہیں ہو سکتا۔قاری فیض اللہ صاحب دامت برکاتہ ان معدودے چند ہستیوں میں سے ایک ہے جو مجبوری کی اس لکیر کو صرف پڑھتا ہی نہیں، بلکہ اس لکیر کی خاموش آواز پر بر وقت لبیک بھی کہتا ہے۔

وباء کے شروع کے دنوں سے اب تک چترال میں سب سے زیادہ امدادی پیکیج پہنچانے والے صاحب قدرت علماء کرام تھے جنہوں نے اس کام کا آغاز مزدور اور دیہاڑی دار طبقے سے کیا لیکن چترال کے مختلف دور دراز کے علاقوں کی مساجد میں امامت کے فرائض انجام دینے والے علماء کرام، مکتب اور مدارس میں تین ہزار یا دو ہزار کی تنخواہ پر قناعت کر کے علاقے کے بچوں کو قرآن سکھانے والے قراء اب تک اپنی سفید پوشی کی وجہ سے چترال تک پہنچنے والے کسی بھی امداد سے یکسر محروم تھے، وجہ اس کی صرف یہی تھی کہ معاشرے میں عزت کے ایک اہم مقام پر فائز ہونے کی بناء پر وہ کسی کے آگے دست سوال نہیں بڑھا سکتے تھے۔

اللہ تعالی بھلا کرے مولانا فتح الرحمان (سینئر نائب امیر جمعیت علماء اسلام اپر چترال ) کا کہ آپ نے گذشتہ دنوں اس نوعیت کے علماء کرام کی ناموں کی ایک فہرست بنا کر قاری فیض اللہ صاحب سامنے پیش کی اور قاری صاحب نے بر وقت اس آواز پر لبیک کہہ کر ان علماء کرام کے نام ایک امدادی پیکج روانہ کیا ‘ جس میں کم وبیش ایسے 150 علماء کرام تک امدادی راشن پہنچایا گیا جو کسی مجبوری کی وجہ سے کراچی ‘ لاہور اور اسلام جا کر ملازمت نہیں کر سکتے۔ اور اپنے گاوں کی مسجدوں میں قرآن کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مولانا فتح الرحمان صاحب کی خدمات اس لحاظ سے قابل داد ہیں کہ انہوں نے استارو کا پل ٹوٹنے کی وجہ سے بونی سے متبادل موڑکہو کے دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے مسلسل تین دنوں تک سفر میں رہ کر مستحقین تک ان کا راشن پہنچایا۔

قاری فیض اللہ صاحب نے جن اہل خیر کی طرف سے امداد فراہم کیا تھا، اس امداد سے موڑکہو کے 75 علماء کرام، استارو کے 4 علماء کرام، رائین تورکہو کے 4 علماء کرام، مڑپ تورکہو کے 6 علماء کرام،ریچ اور کھوت کے دور افتادہ بستیوں میں رہنے والے علماء کرام اور مجموعی طور پر 150 علماء کرام اس امداد سے مستفید ہوئے۔مولانا فتح الرحمان کی سربراہی میں یہ راشن ان علاقوں تک بھی پہنچا جہاں جیپ ایبل راستے سرے سے ہی ناپید تھے۔

ہم اہل خیر حضرات کی خدمت میں مزید ملتمس ہیں کہ آپ کی خدمات کی منتظر مذکورہ علماء کرام کی ایک کافی تعداد اب بھی رہتی ہے’ جن تک ہنوز کوئی امداد نہیں پہنچی۔

امید ہے کہ آپ ہماری اس درخواست پر بھی لبیک کہہ کر عید کی خوشیوں میں بھی ان محسن علماء کرام کو یاد رکھیں گے۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
116130cookie-checkمجبوری کی لکیر پڑھئیے!

کالم نگار/رپورٹر : سیدالابرارسعید

Share This