Supreme Court Dam Initiative

کھوار اہل قلم اور تقریبِ ایوارڈ

کسی قوم یا گروہ انسانی کی تہذیب کے اعلیٰ مظاہر، جو اس کے مذہب، نظام، اخلاق،علم و ادب اور فنون میں نظر آتے ہو، یا وہ،ذہنی ترقی جو زندگی کے چلن میں کارفرما ہو، تہذیب و ثقافت کہلاتے ہیں، اور آج کے دور میں تہذیب اور ثقافت کو ملا کر ان دونوں کا نام کلچر رکھ دیا گیا ہے، اس کو جس نام سے بھی موسوم کیا جائے اس کی اہمیت روز اوّل سے آج تک بر قرار رہی ہے، اپنی تہذیب و ثقافت کو گم کرنے والی قوم اپنی شناخت کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت اور عظمت بھی کھو دیتی ہے، اور جو قوم اپنی شناخت اور اہمیت کھو دیتی ہے وہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رہ جاتی ہے، تہذیب و ثقافت کے محافظین کی اہمیت تاریخ میں مسلّم رہی ہے، آج کے دور میں قومی اور علاقائی سطح پر بھی کئی تنظیمیں اپنی ثقافت کی حفاظت پر مامور ہیں، چترال بھی ان گنے چنے علاقوں میں سے ایک ہے جہاں ثقافت ہی اپنی شناخت سمجھی جاتی ہے، مرورِ زمانہ کے ساتھ مختلف لوگ اور تنظیمیں اس راہ میں کام کرتی آئی ہیں، اور آج بھی اسی نہج پر کر رہی ہیں، انہی تنظیمیوں میں سے ایک تنظیم کھوار اہل قلم کی ہے، کھوار اہل قلم ضلع چترال میں اپنی زبان کھوار ادب، تہذیب اور ثقافت کے لیےکام کرنے والی چند نمائندہ تنظیموں میں سے ایک منظم تنظیم ہے، جو ایک عرصے سے مختلف ادبی اور ثقافتی فورم پر نئی نسل کے نوجوان ادباء، شعراء اور اہل فن کی حوصلہ افزائی کرتی آئی ہے، کھوار اہل قلم، فعال ورکرز اور مخلص ذمہ داروں کا ایک ذمہ دار ادبی نیٹ ورک ہے، آج تک اس کے ذمہ داران، ممبرز اور کارکن کھوار ادب کی ترقی اور نیک نامی کے لیے اپنے حصے کی شمع بخوبی و احسن انداز سے جلاتے آئے ہیں، نوجوان نسل کے شعراء اور اہل قلم کی ہمتوں اور جذبوں کو مہمیز فراہم کر کے ان کی ادبی صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدا کرنے کی خاطر یہ تنظیم مختلف اوقات میں ان شعراء اور اہل قلم کے مابین مختلف اصلاحی موضوعات پر مشاعروں اور نثری مسابقوں کا اہتمام بھی کراتی ہے، آج سے کم و بیش ۴ ماہ پہلے۲۷ اکتوبر ۲۰۱۷ میں اسی تنظیم کے زیر اہتمام آن لائن لکھاریوں کے مابین کھوار زبان میں ” سوشل میڈیا کے کھوار ادب پر اثرات ” کے عنوان سے ایک نثری مقابلے کا انعقاد عمل میں آیا تھا، جس میں کل ۱۷ آن لائن لکھاریوں نے شرکت کر کے متعلقہ موضوع پر اپنے تاثرات، خیالات اور احساسات سے آگاہ کیا، اس مقابلے میں محترم آیاز آس، اعجاز احمد اعجاز، عطاء الرحمن عدیم، اور علی نواز اظہرنے بالترتیب پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کرلی، اس کے سال نو کے شروع میں ۵جنوری سے ۷ جنوری تک اسی تنظیم کے زیر اہتمام محترم ذاکر محمد زخمی صاحب کی صدارت میں چترال کے نامور شاعر اور ادیب عزیز الرحمن بیغش مرحوم کی یاد میں ایک طرحی مشاعرے کا اہتمام کیا گیا، جس میں ۱۰۰ سے اوپر شعراء اور ادباء نے اپنا کلام پیش کیا, چترال میں موسم بہار کی آمد کی خوشی میں ادبی تقریبات کا انعقاد ماضی کی تاریخ کا بھی ایک سنہرا باب ہے، اسی تناظر میں ” فاسٹ ٹیلی کام” کے تعاون سے کھوار اہل قلم نے بھی ۶مارچ سے ۷ مارچ تک شعراء کے درمیان استاد الاساتذہ محترم مولا نگاہ نگاہ صاحب کی صدارت میں ایک طرحی مشاعرے کی صورت میں مقابلے کا اہتمام کیا، جس میں چترال سے تعلق رکھنے والے مختلف ممالک میں رہائش پذیر شعراء نے آن لائن اپنا کلام پیش کیا، اس مشاعرے میں ۷۰شعراء نے اپنا کلام پیش کیا، ۸ مارچ کو ہونے والے نتائج کے مطابق، اس مشاعرے میں محمد شیراز غریب اوّل، قدرت اللہ راہی دوم،اور مولانا سعید الرحمن ثاقب نے سوم پوزیشن حاصل کی، ۱۰ مارچ ۲۰۱۸ بروز ہفتہ چترال ٹاؤن ہال میں کھوار اہل قلم کی طرف سے کھوار ادبی و ثقافتی ایواڈ تقریب کا اہتمام ہوا، جس میں علاقے کے معززین، صحافی، اہل قلم، شعراء اور کثیر تعداد میں اہل علاقہ نے شرکت کی، اس تقریب میں نثری اور شعری مقابلوں میں جیتنے والے تمام حضرات کو کھوار ادبی اور ثقافتی ایوارڈ سے نوازا گیا، تقریب سے نامور شعراء اور ادباء نے خطاب بھی کیا، ممتاز ادبی شخصیت محمد ذاکر زخمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے علاقے کے ڈسٹرکٹ ممبران نے ۳۸ سالوں میں اہل ادب اور کھوار زبان کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا، اہل ادب نے ہمیشہ اپنی مدد آپ کے تحت اپنی زبان کی خدمت کی ہے، چترال میں ادب کے نام سے آنے والا فنڈ ہمیشہ کی طرح آج بھی ادب کے علاوہ اور کاموں میں صرف ہو جاتا ہے، تقریب میں محمد کوثر ایڈووکیٹ ، اقرار الدین خسرؤ، مسرت بیگ مسرت اور دیگر بڑی شخصیات نے شرکت کی،

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
63600cookie-checkکھوار اہل قلم اور تقریبِ ایوارڈ

کالم نگار/رپورٹر : سید الابرار سعید

Share This