Supreme Court Dam Initiative

مولويوں كا منظم نظام اور ہمارا رويّہ!

ايك رپورٹ كے مطابق گزشتہ روز ملك بهر كے مدارس ميں تعليمى سال كا اختتام وفاق المدارس العربيہ پاكستان كے تحت ہونے والے امتحانات ميں آخرى پرچے كے ساتھ ہوگيا–جس ميں 3لاكھ 15 ہزار 184 طلبا ؤ طالبات نے شركت كى-مذكوره طلبہ ميں 70004 حفظ جبكہ 2 لاكھ 45 ہزار 180 طلبا ؤ طالبات شعبۂ كتب كے تهے-گذشتہ سال كى نسبت اس سال كے امتحان ميں 27 ہزار 608 طلبا ؤ طالبات كى تعداد بڑهى ہے-امتحانات كے لیے 13 ہزار 676 ممتحنين مقرر كيے گئے تهے–ملك بهر ميں كہيں بهى نقل كا كوئى واقعہ پيش نہيں آيا–نتائج كا اعلان شعبان كے تيسرے ہفتے ميں كيا جائے گا–دنيا بهر ميں جديد كمپيوٹرائزڈ دور ميں بهى اتنے بڑے ملكى سطح كے لاكهوں طلبہ كے نتائج كا اعلان اتنے قليل عرصے ميں كرنا صرف وفاق المدارس كا ہى اعزاز ہے- ليكن افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ ملكى سطح پر ايسے كئى عظيم اور منظم كارناموں كا كريڈٹ جب مولويوں كے كهاتے ميں جانے كا وقت آتا ہے تو لكهنے والوں كے قلم كى سياہى خشك ہوجاتى ہے،خيال نويسوں كے ہاتھ شل اور سخنوروں كى زبانيں گن ہوجاتى ہيں- ستم بالائے ستم يہ كہ آئے روز مولويوں سے ان كے معاشرتى حقوق بهى چهین لينے كى كوششيں ہورہى ہيں-حال ہى ميں رانا تنوير عالم( جوكہ كوئى نو آميز لكهارى ہے) نے” اسلام كو مولوى سے بچاؤ” نامى كتاب لكھ كر مولويت كو تختۂ مشق بنا كر اپنى تحريرى سفر كا آغاز كر ديا ہے–اس كتاب كے پيشِ لفظ كى ابتدا “مرزا ياسين بيگ حال سكونت كينيڈا” نے” اے اللہ !ہميں مولوى كے اسلام سے بچا” جيسے دعائيہ كلمات سے كى ہے- مولوى گهوڑے پر سوار ہو تو عياشى كا طعنہ، گهوڑا لے كر پيدل چلے تو دقيانوسيت كا شكوه، گهوڑا كندهوں پر اٹها كر چلے تو بيوقوفى كا طعنہ، اب تم ہى بتاؤ يہ اندازِ گفتگو كيا ہے-؟ جبكہ دوسرى طرف حقائق كا يہ عالم كہ معاشرے كے لیے مولوى كا كردار جس قدر پانچويں صدى ہجرى سے دسويں صدى ہجرى تك تها آج بهى وہى ہے ليكن” ديدۂ ليلىٰ كے لیے ديدۂ مجنوں كى ضرورت ہے” روزِ اوّل سے مولويوں كو جو شعبہ ملا انهوں نے اپنے شعبے كى حفاظت فرمائى اور منظم انداز سے اس شعبے ميں كام كيا–اكيسويں صدى كے مولوى كو ڈسپلن اور تربيت سكهانے والے معزز دانشور ذرا گذشتہ تاريخ كے آئينے ميں بهى اگر مولوى كى تاريخ كا جائزه لے ليں تو ان كو اندازه ہوگا كہ معاشرے كو بگاڑ سے بچانے ميں ديہات كى اس چهوٹى سى مسجد كے امام كا اب تك كيا كردار رہا ہے۔بقول امام نعيمى كے دسويں صدى ميں شہر دمشق ميں معاشرتى اصلاح كے لیے بننے والے فقہ و قانون كے اداروں كا يہ عالم تها كہ فقہ شافعى كے 63 منظم ادارے، فقہ حنفى كے 52، فقہ حنبلى كے 17اور فقہ مالكى كے 4 ادارے تهے-جو معاشرے ميں عظيم كردار كى نشانى تهے.63 هجرى ميں مدرسہ مستنصريہ كى تعمير ہوئى جو اس وقت كے قانون كى سب سے بڑى درسگاه تهى-اس ميں چاروں فقہى قانون و مكاتب فكر كے 62-62 ماہرين، فقہ و قانون كے شعبوں ميں تدريس كے لیے تعينات تهے.مولوى ترقى كے راستے كا كانٹا ہوتا تو قرون وسطى كى ترقى اوج ثريا تك نہ پہنچتى كہ جس وقت تمام كليدى عہدوں پر مولوى بر اجماں تھے۔ گذشتہ ادوار ميں مولويوں كى ترقياتى كاموں كا تو يہ حال تها كہ صرف قرطبہ ميں 80400 دكانيں تهيں جن ميں بيس ہزار فقط كتب فروشى اور اس سے متعلقہ كاروبار كے لیے وقف تهيں-شہر ميں 3000 ہزار مساجد،80 كالج،50 ہسپتال،700 حمام،اور غلے كو محفوظ كرنے كے لیے 43000 گودام تهے۔ميلوں طويل سڑكيں قيمتى پتهروں سے مزين تهيں۔رات كے وقت شہر ميں روشنى كا بخوبى انتظام تها۔سرِ شام گليوں ميں نصب ستونوں سے آويزاں ليمپوں ميں تيل ڈالے جاتے.غروب آفتاب پر انهيں جلا ديا جاتا۔سكّے سے بنى پائپ لائنوں كى مدد سے پورے شہر كے لیے پانى كا انتظام جيسے كارنامے مولويوں كى طرف سے عطا كرده اسلامى تاريخ كا روشن باب اور مولوى سميت اسلام كو ترقى كى راه ميں ركاوٹ گرداننے والوں كے منہ پر طمانچہ ہيں۔دوسرى طرف ملكى اقتدار پر 70 سالوں سے قابض سيكولر طبقوں كا يہ حال ہے كہ عوام كو زندگى كى ضروريات، روٹى، كپڑا، مكان، بجلى، پانى اور آمدورفت كے لیے سڑكيں دينے سےبهى قاصر ہيں۔50 ہسپتال تو كجا 50 بيڈوں والے ہسپتال كو لوگ ترس رہے ہيں۔ہمارے اپنے علاقے كى(چترال توركهو) سڑک كے لیے مختص ہونے والى رقم كو كئى ادوار كے منتخب عوامى نمائندوں نے ہضم كرليا، اور آج بهى علاقے كے لوگوں كے ساتھ يہ كهلواڑ جارى ہے

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
28370cookie-checkمولويوں كا منظم نظام اور ہمارا رويّہ!

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتی ہے۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچی ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This