چترال میں سوشل میڈیا کا بے تحاشہ استعمال

دسمبر 2011 کو جب مجھے ریڈیوپاکستان چترال میں اردو پروگرام آبشار کی میزبانی کی ذمہ داری سونپی گئی تو میرے پروڈیوسر جناب جاوید اقبال صاحب نے مجھے ایک موضوع پر تحقیق کرنے کا حکم دیا۔ موضوع چترال میں موجود سماجی رابطے کی سائٹس استعمال کرنے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے تھا اور مجھے یہ ڈھونڈ نکالنا تھا کہ چترال میں مقیم اور چترال سے باہر کل کتنے افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور کون کونسی سائٹ استعمال کرتے ہیں ۔ خیر اس زمانے میں مجھے ریسرچ اور اس کے اصولوں کے حوالے سے معلوم نہیں تھا البتہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا کے اسٹوڈنٹس سے دریافت کرنے کے بعد اندازہ لگایا کہ اس وقت چترال میں کم و بیش 27 ہزار کے لگ بھگ افراد سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے تھے ۔ تحقیق کے مطابق سماجی رابطے کی مختلف سائٹز میں سے فیس بک کا استعمال کرنے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ ان دنوں اگرچہ فیس بک اتنی مقبول نہیں تھی مگر دن بدن چترال میں اس کے صارفین بڑھتے جارہے تھے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ فیس بک صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ پہلے پورے گاؤں میں ایک دو لوگوں کے فیس بک اکاؤنٹ ہوا کرتے تھے لیکن رفتہ رفتہ ہر گھر میں فیس بک کا استعمال ہونے لگا۔ بھائی نے پہلے اکاونٹ کھولا، اس کے بعد ابو کی باری آئی اور پھر بہنوں نے بھی جھوٹے ناموں اور جعلی تصاویر کے زریعے فیس بک تک رسائی حاصل کی۔ یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور بچے ، بوڑھے اور جوان بلکہ بچیاں اور خواتین بھی بڑی تعداد میں فیس بک کی جانب راغب ہونے لگے۔ آج چترال کا شمار پاکستان کے ان چند علاقوں میں ہوتا ہے جہاں لوگ سب سے زیادہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں ۔ میں قطعاً سوشل میڈیا کے روشن پہلووں کو نظر انداز نہیں کرتا۔ مجھے معلوم ہے کہ سماجی رابطے کی سائٹز کے استعمال کے بعد لوگوں کے علوم و شعور میں اضافہ ہوا ہے۔ دور رہنے والے دوست رشتے دار اور احباب قریب آگئے ہیں۔ خوشی اور غم میں شریک ہونے کے لیے بھی اس کا استعمال مثبت طریقے سے ہوتا ہے۔ تاہم سماجی رابطے کی ان سائیٹ نے قوم کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھی ۔ بچے بوڑھے اور جوان دن رات سوشل میڈیا کے استعمال میں لگے رہتے ہیں ۔ خواتین نے گھر کا کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ لڑکیوں نے پڑھنے پر فیس بُک کو فوقیت دے رکھی ہے۔ جوان تن آسانی میں مبتلا ہو گئے ہیں اور کمفرٹ زون سے باہر نکل آنے سے گریز کر رہے ہیں۔ بزرگوں کا خیال رکھنا دور کی بات ان سے بات تک کرنے والا کوئی نہیں جبکہ قوم دن بدن زوال پذیر ہوتی جا رہی ہے ۔ سب سے تشویشناک بات اس ضمن میں یہ ہے کہ %50 سے زائد افراد نے فیک ائ ڈیز (جعلی اکاونٹس)  کھول رکھے ہیں جنھیں وہ اپنے مذموم مقاصد میں  کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ مثلاً میں آپ کو سال 2015 کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ میں اس وقت جامعہ پشاور میں شعبہِ صحافت و ابلاغ عامہ کا طالب علم تھا اور سرکاری ہاسٹل میں رہایش پزیر تھا۔ حسبِ معمول رات کے وقت میں اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہوا۔ مجھے اس روز کل 7 ریکویسٹز موصول ہوئی تھیں جن میں سے ایک خاتون کے نام سے تھی۔ حیرانگی کی بات یہ تھی کہ اس خاتون کو اور اس کے خاندان کو میں نام سے جانتا تھا ۔ اس کا تعلق چترال کے ایک انتہائی باعزت گھرانے سے تھا۔ تاہم ہماری کوئی جان پہچان نہیں تھی اسی لیے میری حیرانگی میں اور اضافہ ہورہا تھا۔ پھر مجھے ان کی جانب سے کچھ پیغامات موصول ہوئے جو کہ نامناسب اور خلافِ توقع تھے ۔ اسی لیے مجھے شک ہوا کہ کسی نے ایک عزت دار گھرانے کی باعزت بیٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں ان کے ٹائم لائن پر گیا اور ان کے حوالے سے مزید تحقیق کرنے لگا۔ ایک گھنٹے کی مسلسل کوشش کے بعد مجھے وہ نمبر مل گیا جس کے ذریعے اکاونٹ کھولا گیا تھا ۔ میں نے نمبر اپنے دوست کے موبائل فون سے ڈائل کیا تو پتہ چلا کہ نمبر ایک لڑکے کا تھا جو ہاسٹل میں نیا نیا آیا تھا اور جس کا تعلق بھی بدقسمتی سے چترال سے ہی تھا۔ مزید تحقیق سے پتہ چلا کہ لڑکا بھی اسی گاؤں سے تعلق رکھتا تھا جہاں خاتون رہتی تھی ۔ میں نے اس لڑکے کو اتنا شرمندہ کیا کہ خود مجھے شرم آئی۔ لڑکے نے فوراً اکاؤنٹ ڈی ایکٹیو کیا اور آئندہ اس طرح کی کسی غلطی کا مرتکب نہ ہونے کی قسم کھائی۔ خیر یہ تو صرف ایک فیک آئی ڈی کی بات ہے۔ نہ جانے کتنے اور اس قسم کے اکاونٹ ہیں جن کا کوئی تعلق ان لوگوں بل واسطہ یا بلا واسطہ نہیں جن کے ناموں سے ان کو بنایا گیا ہے ۔ نجانے کتنی بے قصور بیٹیوں کی زندگیاں اس وجہ سے برباد ہو چکی ہیں اور نہیں معلوم کہ میرے ان بھائیوں کو کب شعور آئے گا۔ یہ صرف ایک پہلو ہے۔ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے اور بھی بہت سارے پہلو ہیں ۔ جسے جمہوریت کی تعریف نہیں آتی وہ رائے عامہ کے بارے میں رائے دیتا ہے ۔ جسے سیاست کا مطلب نہیں معلوم اس کی وال پر سب سے زیادہ سیاسی پوسٹیں دیکھنے کو ملتی ہیں  اور پھر ان پوسٹوں پر لکھے گئے غیر مہذب اور غیر شائستہ کمنٹس کا یہ حال ہے کہ بات گالم گلوچ پر بھی ختم نہیں ہوتی. ایک نارمل تصویر کو کمپیوٹر پر ابنارمل بنا کر لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش، دوسروں کی کہی ہوئی باتوں کو بنا اجازت کاپی پیسٹ کرنا، تسکینِ ذوق کی خاطر دوسروں پر بے جا تنقید کرنا اور تفرقہ پھیلا کر بد امنی کو فروغ دینا معمول کی بات بن گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ  مجبوراً فیس بک کو فیک بک(جعلی کتاب) قرار دینا پڑتا ہےجہاں سب سے زیادہ جھوٹ پڑھنے کو ملتا ہے ۔ الغرض فیس بک کے غلط استعمال کے حوالے سے لکھتا رہوں تو شاید ایک مکمل کتاب تحریر ہو پائے۔ میرے بھائیو اور بہنو! سوشل میڈیا کا استعمال برا نہیں ہے۔ مگر استعمال سے پہلے اس کے مقصد سے آگاہ ہونا ضروری ہے ۔ فیس بک اکاونٹ کھولنا برا ہرگز نہیں ہے ۔ مگر اس کا بے جا استعمال برا ہے۔ مارک زکر برگ نے فیس بک اس لیے نہیں بنائی کہ ہم لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے جھوٹ بولیں، کسی کی عزت کو پامال کریں یا پھر کسی پر بے جا تنقید کریں ۔

اس کا مقصد لوگوں کے ساتھ سماجی رابطے استوار رکھنا ہے۔ لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ علم حاصل کرنا ہے اور امن پھیلانا ہے۔ ہم سب چترالی ہیں، امن ہماری پہچان ہے۔ محبت لوگ ہم سے سیکھتے ہیں ۔ مہمان نوازی میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ سماجی رابطے کی ان سایٹس کے غلط استعمال کی وجہ سے ہم میں نہ ختم ہونے والی برائیاں جنم لے رہی ہیں ۔

زیل نیوز میں شائع مضامین اور کمنٹس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں
34040cookie-checkچترال میں سوشل میڈیا کا بے تحاشہ استعمال

کالم نگار/رپورٹر : عطا حسین اطہر

http://zealnews.tv/wp-content/uploads/2016/10/favicon-300x300.png
زیل نیوزٹیم چترال کے جانے مانے صحافیوں اور لکھاریوں پر مشتمل ایک ٹیم ہے۔ جو کہ صحافتی میدان میں ایک نمایاں مقام اور نام رکھتی ہے۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ خبر ہمیشہ سچی ہو

3 تبصرے

  1. Shafiq Ahmad Shafiq
    محترم شہزاد صا حب، بہت خوبصورت انداز میں مسلےکی تصویر کشی کی ہے۔ یقینا سوشل میڈ یا کا منفی استعما ل قابل مذمت ہے۔
  2. Habiburrahman

    100 فیصد صحیح بات بھائ اللہ سب کو ہدایت دے

  3. mir zaman

    100%true

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This